سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 54 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 54

54 پر انگریزوں کی حکومت ہو۔حقیقت یہ ہے کہ محوری طاقتیں اس وقت اپنی نو آبادیاں بنانے کی فکر میں تھیں اگر ہندوستان میں انگریز حکومت نہ ہوتی تو یہ فوراً اس کو ایک تر نوالہ سمجھ کر اس پر قبضہ کر لیتے۔جیسا کہ ذکر آچکا ہے کہ جنگ کے آغاز میں گاندھی جی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ محوری طاقتوں کے حملے کا جواب عدم تشدد سے دینا چاہئیے اور کسی قیمت میں جنگ کے عمل میں شامل نہیں ہونا چاہئیے۔لیکن جنگ کے آغاز میں ہی اُن کو احساس ہو گیا تھا کہ خود اُن کی جماعت ،آل انڈیا نیشنل کانگرس کی اکثریت اس معاملے میں اُن سے متفق نہیں ہے۔چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں ہی انہوں نے یہ اعتراف کیا۔صورتِ حال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اگر کانگرس ان لوگوں کے ساتھ شریک ہوگئی جو ہندوستان کی مسلح حفاظت میں یقین رکھتے ہیں تو مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ کانگریسی گذشتہ میں سال مسلح جنگ کی سائنس کو سیکھنے کے اہم فرض میں کوتاہی کرتے رہے ہیں۔اور مجھے خدشہ ہے کہ تاریخ میں مجھے لڑائی کا ایک ایسا جرنیل کہا جائے گا۔جو اس افسوسناک غلطی کا ذمہ دار ہے۔مستقبل کا مؤرخ کہے گا کہ مجھے یہ دیکھنا چاہئیے تھا کہ قوم طاقتوروں کے عدم تشدد پر نہیں بلکہ وہ کمزوروں کے عدم تشدد پر عمل پیرا ہے۔اس لئے مجھے کانگرسیوں کے لئے فوجی تربیت کا انتظام کرنا چاہئیے تھا۔میرے دماغ میں یہ خیال بڑی شدت سے موجود تھا کہ کسی نہ کسی طرح ہندوستان حقیقی عدم تشد دسکھ لے گا۔اس لئے مجھے اپنے ساتھیوں کو مسلح حفاظت کی ٹریننگ کی دعوت دینے کا خیال پیدا نہ ہوا۔(۲۷) با وجود اس کے کہ کانگرس کے اکثر قائدین گاندھی جی کے زیر اثر تھے لیکن اس معاملے میں وہ علی الاعلان اُن سے اپنے اختلاف کا اظہار کر رہے تھے۔پنڈت جواہر لال نہرو نے بیان دیا کہ اگر محوری طاقتوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو ہندوستان ہتھیار نہیں ڈالے گا بلکہ ان کا پورا مقابلہ کرے گا۔مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا کہ ہم آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں خواہ کسی قیمت پر ہو۔گاندھی جی تشدد کے استعمال کے خلاف ہیں مگر دنیا میں ہمیشہ منطق سے کام نہیں چلتے۔ہمارے ملک کی اکثریت نہ عدم تشد دسیکھ سکتی ہے اور نہ وہ اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔(۲۹،۲۸) انجام یہ ہوا کہ جب کچھ سال بعد ۱۹۴۵ء میں انگریز حکومت نے پیشکش کی کہ اگر جاپان کے خلاف جنگ میں حکومت کی اعانت کی جائے تو وہ کانگرس کو شامل کر کے ہندوستان کے باشندوں پر