سلسلہ احمدیہ — Page 610
610 رہے ہوں تو ان کی تربیت اور ان کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کا کام اولین ترجیح اختیار کر لیتا ہے۔اور مقامی مبلغین کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹ برائے ۱۹۴۰ء۔۱۹۴۱ء میں سیرالیون کی رپورٹ کے بعد یہ تبصرہ شائع کیا گیا تھا سیرالیون کے بعض مخصوص حالات یہ ہیں کہ بعض لوگ جلد از جلد احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن عملی تبدیلی کے لئے تیار نہیں۔اور ظاہر ہے کہ اس کا احمدیت کو کوئی فائدہ نہیں۔بلکہ احمدیت کے مستقبل کے لئے مضر ہے۔اس وقت زیادہ ضرورت مخلص افریقن مبلغین کی ہے۔علاوہ مذکورہ بالا دونوں احمدی اساتذہ کے الفا ابراہیم زکی صاحب بھی تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔اور انشاءاللہ ایک اور نوجوان عبد الباری صاحب بھی ایک تین ماہ تک تبلیغ کے واسطے تیار ہو جائیں گے۔اور ان کے علاوہ بعض اور نو جوان بھی تیار ہورہے ہیں۔(۶) اپریل ۱۹۴۱ء تک سیرالیون میں ۸ جماعتیں قائم تھیں اور اپریل ۱۹۴۲ ء تک اس ملک میں ۱۴ جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔تعداد اور اہمیت کے لحاظ سے ماٹوٹو کا اور باڈو کی جماعتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں کیونکہ یہ دونوں مقامات ریاستوں کے صدر مقام تھے۔ماٹوٹو کا اس لئے بھی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ علاقے میں عیسائیت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔اور یہاں پر امام اور چند علماء کے علاوہ باقی لوگوں کی اکثریت نے احمدیت قبول کر لی تھی اور یہاں کے ایک مقامی دوست سوری باکو کو امام مقرر کیا گیا تھا۔اپریل ۱۹۴۲ ء تک دو مرکزی مبلغین کے علاوہ سیرالیون کے چار مقامی مبلغین بھی کام کر رہے تھے۔یہ ابتدائی چار مبلغین شیخ علی مانسری، عمر جاہ صاحب، ابراہیم ذکی صاحب اور عبدالباری صاحب تھے۔(۸،۷) لندن مشن نے حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا تھا۔سیرالیون کی جماعت نے کثیر تعداد میں اس اشتہار کو وہاں پر تقسیم اور فروخت کیا۔اور مختلف احمدیوں نے اس اشتہار کو اپنے مکان کے برآمدے ،ستون یا دیواروں پر آویزاں کیا تا کہ عیسائیوں پر ظاہر ہو کہ حضرت عیسی خدا نہیں تھے بلکہ فوت ہو چکے ہیں۔۔اس اشتہار کی وجہ سے پادری صاحبان اور متعصب عیسائی بہت برہم ہوئے۔اور ایک دن بلوہ کر کے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کے مکان پر آگئے اور مطالبہ کیا کہ اس اشتہار کو اُتار دیا جائے کیونکہ اس پر پبلک کی نظر پڑتی ہے۔اور لوگوں کو