سلسلہ احمدیہ — Page 594
594 اس موقع پر نظامِ جماعت نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی قیادت میں اس حکم کی منسوخی کی کوششیں شروع کیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اس امر کی اتنی شدید بے قراری تھی کہ یہ پابندی جلد از جلد ختم ہو جائے۔وہ با وجود کمزور صحت کے ہمہ وقت اس جہاد میں مشغول تھے۔ان کے لئے اس فکر نے ایک علیحدہ مرض کی صورت اختیار کر لی تھی۔(۷) پاکستان اور بیرون پاکستان کی جماعتوں نے اس موقع پر بہت قابل قدرردعمل کا مظاہرہ کیا۔وہ اس موقع پر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جان ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ریزولیشنوں اور احتجاجی نوٹوں سے حکومتی افسران اور اخبارات کے سامنے اس کثرت سے اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کیا کہ گویا ایک سیلاب آ گیا ہو۔بالآخر یہ کاوشیں اور دعائیں رنگ لائیں اور تقریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ منسوخ کر دیا (۸)۔مخالفین ہمیشہ سے جماعت کے لٹریچر سے خوف زدہ رہے ہیں۔اب تک پاکستان میں جماعتی لٹریچر پر پابندیاں لگانے کی ایک لمبی تاریخ رقم کی گئی ہے اور یہ ایک ابتدائی کوشش تھی جو کہ وقتی طور پر کامیاب نہیں ہوسکی۔لیکن دشمن کا ہدف یہی رہا کہ جماعت کے لٹریچر کولوگوں تک کسی قیمت پر نہ پہنچنے دو۔(1) The Barrows Lectures, by John Henry Barrows, The Christian Literary Society for INDIA Madras 1897, page 13 (The Barrows Lectures, by John Henry Barrows, The Christian Literary Society for INDIA Madras 1897, page 21,22 (۳),The Barrows Lectures,by John Henry Barrows,The Christian Literary Society for INDIA Madras,1897,page 19 (M)The Barrows Lectures, by John Henry Barrows, The Christian Literary Society for INDIA Madras1897,page 42 (۵) روحانی خزائن ، جلد ۲ ص ۳۷۴ (۶) الفضل ۳ مئی ۱۹۶۳ء ص ۱ (۷) حیات بشیر مصنفہ عبد القادر صاحب ،ص ۲۴۳ ۲۴۴ (۸) الفضل یکم جون ۱۹۶۳ء ص ۱