سلسلہ احمدیہ — Page 593
593 معاملہ میں دوستوں میں بڑا اضطراب اور رنج و غم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔مگر بہر حال انہیں چاہئیے کہ پُر امن رہتے ہوئے دعاؤں میں لگے رہیں۔(۶) جماعت کی طرف سے اس پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک میمورنڈم حکومت کو بھجوایا گیا۔اس میں لکھا گیا کہ حکومتی حکم نامے کی خبر اخبار میں شائع ہوئی ہے مگر ابھی تک کسی جماعتی ادارے کو براہ راست اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی۔اور یہ کتاب اتنا عرصہ سے شائع ہورہی تھی اور اصل میں عیسائیوں کے ان اعتراضات کے جواب میں تھی جو وہ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ اقدس پر اور اسلام پر کر رہے تھے۔اور ایک عرصہ گذر جانے کے باوجود نہ عیسائی حکومت کے دور میں اس پر پابندی لگائی گئی اور نہ کسی عیسائی تنظیم کی طرف سے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ ہوا۔اس میمورنڈم میں جماعت کی طرف سے گورنمنٹ کو لکھا گیا کہ ہم موجودہ عیسائی لٹریچر سے ایسے بیسیوں ایسے حصے پیش کر سکتے ہیں جو قرآن کریم کی ہتک ، آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر اتہامات اور اسلام پر اعتراضات پر مشتمل ہیں۔جن کی زبان ہرگز عالمانہ نہیں اور قطعا یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کتب تحقیق کی نیت سے لکھی گئی تھیں۔اور اس میمورنڈم میں لکھا گیا کہ اس امر کے ذکر کی ضرورت نہیں کہ کسی عقیدہ پر خالص علمی رنگ میں تنقید کرنا دل آزاری اور منافرت انگیزی کے مترادف نہیں۔اور پاکستان کے موجودہ آئین میں ہر فرد کو مذہب اور تحریر کی ضمانت دی گئی ہے۔اور اُن ممالک میں جہاں غالب اکثریت عیسائیوں کی ہے ایسی خالص علمی ریسرچ کو کبھی نہیں روکا گیا۔اس ضبطی پر احتجاج صرف جماعت احمد یہ تک محدود نہیں تھا۔بہت سے غیر از جماعت شرفاء نے بھی اس حکم کے خلاف آواز بلند کی۔چنانچہ جھنگ سے قومی اسمبلی کے ممبر غلام حیدر بھروانہ صاحب نے بھی صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صاحب کو اس اقدام پر خط لکھا اور لکھا کہ یہ فیصلہ غیر دانش مندانہ، غیر منصفانہ اور غیر ضروری تھا۔اور یہ امر قابل افسوس ہے کہ یہ کتاب ایک عیسائی حکومت کے دور میں شائع ہوئی اور اسے ایک مسلمان حکومت کے دور میں ضبط کر لیا گیا۔جبکہ یہ کتاب عیسائی عقائد کے رد میں لکھی گئی تھی۔اور یہ مطالبہ کیا کہ اس حکم کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔اسی طرح چنیوٹ کی بار ایسوسی ایشن نے بھی اس حکم کے خلاف قرار داد منظور کی۔