سلسلہ احمدیہ — Page 592
592 مغربی پاکستان یہ حکم جاری کرتے ہیں کہ اس کی تمام کا پیاں حکومت کے پاس جمع کرادی جائیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پابندی مسلمانوں کی حکومت کی طرف سے لگائی جارہی تھی۔انہوں نے ہیروز کے لیکچروں پر یا مغربی مصنفین کی ان کتابوں پر تو پابندی نہیں لگائی جن میں حضرت محمد مصطفے پر بے جا اعتراضات کئے گئے تھے لیکن جو کتاب آنحضرت ﷺ اور اسلام کے دفاع اور تائید میں لکھی گئی تھی اسے ضبط کر لیا گیا۔یہ ظالمانہ فیصلہ دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص احمد یوں کی شدید دل آزاری کا باعث بنا۔اس موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے یہ نوٹ شائع کیا گیا۔جیسا کہ احباب جماعت کو معلوم ہو چکا ہے حکومت مغربی پاکستان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ضبط کر لی ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ ہمارے نزدیک ایک مامور من اللہ کی کتاب ہے۔حکومت کا یہ فیصلہ کئی لحاظ سے انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ (۱) دنیا جانتی ہے کہ یہ کتاب آج سے پیسٹھ سال قبل شائع ہوئی تھی۔(۲) اس کے بعد بھی وہ متفرق سالوں میں کئی دفعہ چھپتی رہی اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(۳) یہ کتاب نہ صرف ابتداء بلکہ غالباً دوسری تیسری دفعہ بھی عیسائی حکومت کے زمانہ میں چھپی تھی۔(۴) جیسا کہ اس کتاب کا نام ظاہر کرتا ہے یہ کتاب ایک عیسائی کے سوالوں کے جواب میں لکھی گئی تھی۔با وجود ان تمام باتوں کے یہ کتنی نا انصافی کی بات ہے کہ عیسائی حکومت نے تو اپنے سالہا سال کے دور میں اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔مگر پینسٹھ سال کے بعد آ کر مسلمان حکومت نے اس پر ایکشن لینا ضروری خیال کیا۔جماعت کے دوستوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ضروری قانونی کاروائی کی جارہی ہے۔مقامی جماعتوں کی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس