سلسلہ احمدیہ — Page 591
591 اور عام فائدہ کے لئے ان جوابات کو شائع بھی فرما دیا۔اس کے آخر میں آپ نے اس پر شوکت انداز میں اسلام پر حملہ کرنے والے عیسائیوں کو چیلنج دیا۔ان میں کوئی بھی نہیں ہاں ایک بھی نہیں جس میں ایمان کی نشانیاں پائی جاتی ہوں۔اگر ایمان کوئی واقعی برکت ہے تو بیشک اُس کی نشانیاں ہونی چاہئیں مگر کہاں ہے کوئی ایسا عیسائی جسمیں یسوع کی بیان کردہ نشانیاں پائی جاتی ہوں؟ پس یا تو انجیل جھوٹی ہے اور یا عیسائی جھوٹے ہیں۔دیکھو قرآنِ کریم نے جو نشانیاں ایمانداروں کی بیان فرمائیں وہ ہر زمانہ میں پائی گئی ہیں۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ ایمانداروں کو الہام ملتا ہے۔ایماندار خدا کی آواز سنتا ہے۔ایماندار کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ایماندار پر غیب کی خبریں ظاہر کی جاتی ہیں۔ایماندار کے شاملِ حال آسمانی تائید میں ہوتی ہیں۔سو جیسا کہ پہلے زمانوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی تھیں اب بھی بدستور پائی جاتی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اور قرآن کے وعدے خدا کے وعدے ہیں۔اُٹھو عیسائیو! اگر کچھ طاقت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے بیشک ذبح کردو۔(۵) اس کے جواب میں عیسائی منادوں نے خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔۶۵ سال تک اس کتاب کی اشاعت ہوتی رہی۔اچانک ۱/۸ اپریل ۱۹۶۳ء کو مغربی پاکستان کی حکومت نے اس کتاب کو ضبط کر کے اس پر پابندی لگا دی۔چنانچہ اس غرض کے لئے مغربی پاکستان کی حکومت کی طرف سے نمبر 2/61-No۔4/51-H-Spl نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔اس میں تحریر کیا گیا تھا کہ گورنر مغربی پنجاب اس بات کا اطمینان کر چکے ہیں کہ پمفلٹ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب جو الشركة الاسلامیہ ربوہ سے شائع ہوا تھا کے صفحہ ۴،۳ ، ۷، ۲۲،۱۴،۸، ۲۸ اور ۶۱ پر ایسا مواد موجود ہے جس کے نتیجے میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ، بالخصوص احمدیوں کے ساتھ رنجش اور نفرت کے جذبات پیدا ہوں گے۔جو پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈینینس ۱۹۶۰ء کے سیکشن ۲۳ ہبسیکشن ا، کلازز کے تحت آتا ہے۔چنانچہ اس آرڈینینس کے سیکشن ۳۶ کے تحت جو گورنر کو اختیارات حاصل ہیں گورنر