سلسلہ احمدیہ — Page 48
48 نہیں کرنا چاہئیے ، ان کی شکست کی صورت میں ہی آزادی مل سکتی ہے۔اس لئے ان کے دشمنوں سے تعاون کر کے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔چنانچہ کانگرس کے سابق صدر سبھاس چندرا بوس ( Subha Chandra Bose) بھی ایسے ہی خیالات رکھتے تھے۔وہ ۱۹۴۰ء میں ہندوستان سے فرار ہوئے اور برما میں جاپانیوں کے تعاون سے انڈین نیشنل آرمی کی تشکیل کرنی شروع کی۔اس کا مقصد جاپانیوں کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کر کے اسے آزادی دلانا تھا۔ایک اور گروہ کا خیال تھا کہ اس وقت انگریزوں کو ہندوستان کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ مطالبات ماننے پر مجبور ہوں گے۔اس لئے ہندوستانیوں کو اس وقت تک برطانوی فوج میں شامل نہیں ہونا چاہئیے جب تک انہیں فوری طور پر آزادی نہ مل جائے۔چنانچہ کانگرس کے سیاستدانوں کا نقطہ نظر تھا کہ فی الفور ہندوستانیوں پر مشتمل ایک مرکزی عبوری حکومت قائم کرنی چاہئیے اور ہندوستان کو ایک آزاد ریاست کا درجہ ملنا چاہئیے تب کانگرس جنگ کی تیاریوں اور فوجیوں کی بھرتی کے معاملے میں حکومت سے تعاون کرے گی۔برطانوی حکومت حالتِ جنگ میں یہ مطالبات مانے کو تیار نہیں تھی البتہ فوری طور پر ہندوستان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے اور جنگ کے بعد آزادی دینے کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے کا اعلان کیا گیا اور یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ جنگ کے اختتام پر ایک آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے گی جو اقلیتوں کے حقوق کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے آئین سازی کرے گی۔مگر کانگرس نے جنگی تیاریوں اور فوجی بھرتی کے معاملے میں حکومت کی مخالفت اور مظاہرے شروع کر دیئے۔اور نومبر ۱۹۳۹ء میں کانگرس کی صوبائی حکومتوں نے استعفیٰ دے دیا۔مسلمانوں میں سے احرار بھی حسب سابق کانگرس کے ساتھ تھے اور وہ بھی اس موقع پر فوجیوں کی بھرتی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اور انہوں نے گرفتاریاں پیش کرنی شروع کیں۔احرار کے لیڈر حبیب الرحمن صاحب نے وائسرائے پر تنقید کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس مرحلہ پر کانگرس ملک کی صحیح راہنمائی کرے گی (۹)۔سکریٹری جنرل مجلس احرار داؤد غزنوی صاحب نے اعلان کیا کہ مجلس احرار کی بنیا د ر کھنے والے اور اسے چلانے والے قائدین کی ایک بڑی تعداد نے انفرادی حیثیت میں اپنے آپ کو کانگرس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے (۱۰)۔جب کچھ احرار کو حکومت نے گرفتار کیا تو اس پر مسلم لیگ کے حامی اخبار احسان نے یہ تبصرہ کیا