سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 47 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 47

47 ملانے کی کوششیں ہوئیں کیونکہ اس وقت روس اور جرمنی کے باہمی تعلقات بہت خراب تھے۔بظاہر کچھ پیش رفت ہوتی دکھائی دی اور بہت سے اصولی معاملات پر اتفاق رائے بھی ہوا لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔روس کا اصرار تھا کہ جرمنی کے حملے کی صورت میں اسے اس بات کی اجازت ہونی چاہئیے کہ وہ پولینڈ میں اپنی فوجیں اتار سکے مگر پولینڈ کی حکومت روس سے بھی اتنا ہی خائف تھی جتنا جرمنی سے تھی۔اس لئے وہ اس شرط پر رضامند نہیں ہورہی تھی۔اس دوران سیاست کی بساط پر ایک اور حیران کن تبدیلی آنی شروع ہوئی اور با وجود تمام تر با ہمی نفرتوں کے روس اور جرمنی نے آپس میں مذاکرات شروع کر دئے۔اور ۲۳ اگست ۱۹۳۹ء کو سوویت تاس ایجنسی نے اس خبر کا اعلان کیا کہ سوویت یونین اور جرمنی نے آپس میں اس بات پر معاہدہ کر لیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے۔اس کے ردعمل میں برطانیہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولینڈ پر حملہ کی صورت میں وہ پولینڈ کی مدد کو آئے گا۔یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کی صبح کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔اس پر برطانیہ نے جرمنی کوالٹی میٹم دے دیا۔اب جنگ ناگزیر نظر آ رہی تھی۔صرف اتحادیوں کی طرف سے رسمی اعلانِ جنگ باقی تھا۔بالآخر ۳ ستمبر کو برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ہندوستان میں فوجی بھرتی اور حضور کا ارشاد: ادھر یورپ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے شروع ہوئے جنہوں نے کچھ عرصے میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا تھا اور ا دہر ہندوستان میں ایک بحث شروع ہو گئی کہ اس جنگ میں ہندوستانیوں کو انگریزوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے کہ نہیں اور یہ بحث جنگ کے آخری ایام تک جاری رہی۔اس بات کے آثار واضح نظر آرہے تھے کہ پہلی جنگ عظیم کی طرح اب بھی جنگی تقاضے پورے کرنے کے لئے انگریز حکومت کو ہندوستان سے وسیع پیمانے پر فوجی بھرتی کرنی پڑے گی۔اور اس بات کے خطرات بھی نظر آرہے تھے کہ یہ جنگ ہندوستان تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اس لئے ہندوستان کا تعاون سلطنت برطانیہ کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔انگریز ہندوستان پر ایک غیر ملکی حکمران کی حیثیت سے قابض تھے۔اور بہت سے ہندوستانیوں کے دلوں میں ان کے خلاف جذبات پیدا ہونا قدرتی بات تھی۔اس لئے ایک طبقے کا خیال تھا کہ انگریزوں سے بالکل کوئی تعاون