سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 527 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 527

527 نا جائز ہے کہ فلاں شخص خلیفہ ہوگا یا اسے نہیں ہونا چاہئیے یہ نا جائز ہے۔اور اس فتنہ کو کھڑا کرنے والوں سے بیزار ہوں۔اور میں حضرت خلیفتہ اسیح کے وجود کو ایک عظیم نعمت سمجھتا ہوں۔(۷۳) یہ اخبار تو پہلے ہی لکھ رہا تھا کہ اس فتنہ میں مولوی عبد المنان عمر وغیرہ ملوث نہیں ہیں اور ان پر خواہ مخواہ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔یہ خط دوبارہ اسی اخبار میں شائع کروایا گیا اور اس کے بعد اس کی ایک کاپی الفضل کو بھجوا دی گئی۔ظاہر ہے کہ اس خط پر معافی کی کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی تھی ، یہ کاروائی صرف اس صورت میں ہو سکتی تھی جب حضور یا متعلقہ دفتر میں اس کے لئے لکھا جائے۔سلسلہ کے دشمن اخبار میں اسے شائع کرانے سے تو غرض صرف پراپیگنڈا ہی ہو سکتی تھی، حضور نے الفضل میں ایک اعلان کے ذریعہ انہیں ایک بار پھر توجہ دلائی کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ براہ راست حضور سے معافی طلب کریں پھر اس پر غور کیا جائے گا۔لیکن مولوی عبد المنان صاحب اور ان کے ساتھیوں نے ایک بار پھر اس سیدھے سادھے طریق سے اعراض کیا۔(۷۴) اور سب پر حقیقت ظاہر ہوگئی۔جلد ہی مولوی عبدالمنان صاحب اور مولوی عبدالوہاب صاحب اور اس سازش میں دیگر احباب پیغامی جماعت میں شامل ہو گئے۔اور مولوی عبد المنان صاحب نے تو ۱۹۷۴ء میں جو وفد پیغامی جماعت کی طرف سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش ہوا اس میں بھی شرکت کی۔اُس وقت تو مولوی عبد المنان صاحب یہی دعوے ررہے تھے کہ مجھ پر ظلم کیا جا رہا ہے اور میں خلافت احمد یہ پر ایمان رکھتا ہوں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت پر دل و جان سے ایمان رکھتا ہوں۔لیکن سچ ہمیشہ چھپا نہیں رہتا۔پہلے تو جب انہوں نے پیغامی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو اس سے ہی واضح ہو گیا کہ ان کے سابقہ دعوے غلط تھے۔کیونکہ غیر مبایعین میں شمولیت کے اعلان سے ہی واضح ہو جاتا تھا کہ ان کا نظام خلافت پر اعتقاد نہیں ہے۔لیکن حقیقت اُس وقت زیادہ واضح ہو کر سامنے آگئی جب ۲۰۰۲ میں ان کے انٹرویوز کا ایک سلسلہ انٹرنیٹ پر نشر ہوا۔اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ د میں نے کبھی مرزا محمود احمد صاحب کو خلیفہ راشد ،خلیفہ برحق تسلیم نہیں کیا۔۔نہ میرا کوئی ایسا خط روز نامہ کو ہستان کے نام ہے نہ کسی اور کے نام “