سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 522 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 522

522 کیونکہ اب پاکستان ٹائمنز اور کوہستان جیسے اخبارات کو گمنام خطوط اور مراسلے شائع کرنے کی ضرورت پڑ رہی تھی۔کبھی ان کے نام کی جگہ صرف ایک احمدی درج ہوتا اور کبھی ایک واقف حال احمدی کے نام سے لمبی لمبی داستانیں ملکی اخبارات میں چھپ رہی تھیں۔( ۵۹ تا۶۶) اور تو اور جب پیغام صلح نے اپنی طرف سے ربوہ میں ہونے والے بے پناہ مظالم کے ایک عینی شاہد گواہ کا مضمون شائع کیا تو اس پر نام کی بجائے فقط یہ لکھا ہوا تھا ربوہ کے ایک صاحب نظر نوجوان کے قلم سے اور اس مضمون کے مطابق ربوہ میں ہر قسم کے مظالم کا بازار گرم تھا۔کوئی دو شخص اپنی مرضی سے کھڑے ہو کر بات بھی نہیں کر سکتے تھے، ہر وقت دیواروں سے جاسوس چمٹے رہتے تھے،سوشل بائیکاٹ کر کے لوگوں کی زندگی اجیرن کی جارہی تھی۔وغیرہ وغیرہ اور یہ صاحب نظر نو جوان بیچارا ایک عرصہ سے منتظر تھا کہ لاہور آ کر بقول اُسکے پیغام صلح میں لکھنے والے پاک اور نظیف مٹی سے بنے ہوئے احباب کی زیارت سے فیضیاب ہو سکے (۲۰)۔لیکن اس صاحب نظر نو جوان کو صرف پوسٹ بکس تک کا راستہ ہی نظر آتا تھا جہاں آکر اس گمنام مظلوم نے پیغام صلح میں چھپنے کے لئے اپنا مضمون سپر د ڈاک کیا۔اگر ذرا سامنے نظر دوڑا کر دیکھتا اور فقط دومنٹ چلنے کی زحمت گوارا کر لیتا تو مین روڈ پر پہنچ جاتا اور بس میں بیٹھ کر ہمیشہ سے ایسے قصبے سے نکل جاتا جہاں پر بقول اُس کے کسی قسم کی آزادی حاصل نہیں تھی اور زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی تھی۔اُس وقت تو ربوہ میں کئی بنیادی سہولیات بھی مہیا نہیں تھیں۔ابھی تو کچے مکانوں سے پکے مکانوں میں منتقل ہونے کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔پانی کے لئے بھی ماشکی کا منتظر رہنا پڑتا تھا اور کسی قسم کی اقتصادی ترقی کے راستے نہیں کھلے تھے۔وہاں تو کوئی مخلص احمدی بھی بہت قربانی کر کے اور اسے جماعت کا مرکز سمجھ کر ہی رہ سکتا تھا۔پھر یہ تمام گمنام مظلوم صرف مضمون نویسی پر اکتفا کیوں کر رہے تھے وہاں سے نکل کر آزادی کی فضا میں کیوں سانس نہیں لیتے تھے۔بہر صورت اُس وقت بہت سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں ، خبروں سے زیادہ کسی غیر معیاری جاسوسی ڈائجسٹ کی کہانیاں معلوم ہوتی تھیں۔اور ان خبروں کو سنسنی خیز بنانے کے لئے دھما کہ خیز سرخیوں کا سہارا لیا جاتا۔ایک دن سرخی لگائی جاتی 'خلافت کے دعوے داروں میں زبر دست مقابلہ شروع۔خلافت ربوہ کے رضا کاروں نے مسٹر عبدالمنان کے بچوں کو اُن سے چھین لیا۔(۶۱) پھر یہ دیکھ کر کہ اس کا تو کوئی اثر نہیں ہوا یہ سرخی جھائی جاتی، ربوہ کا انتظام سابق قادیانی