سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 43 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 43

43 عالمی منظر پر تبدیلیاں اور دوسری جنگ عظیم کا آغاز جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو سعادت مندا سے قبول کر کے انعامات کے حقدار بنتے ہیں۔۔اور جو بدنصیب اس کے مقابل پر شوخی اور استہزاء سے کام لیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے حصہ پاتے ہیں۔اگر اس اتمام حجت کے بعد بھی دنیا گناہوں میں ترقی کرتی جائے تو یہ بد اعمالیاں خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا باعث بنتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما کنا معذ بین حتی نبعث رسولا (1) یعنی ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں ”خدا فرماتا ہے کہ محض اس عاجز کی سچائی پر گواہی دینے کے لئے اور محض اس غرض سے کہ تا لوگ سمجھ لیں کہ میں اس کی طرف سے ہوں پانچ دہشتناک زلزلے ایک دوسرے کے بعد کچھ کچھ فاصلہ سے آئیں گے تا وہ میری سچائی کی گواہی دیں۔اور ہر ایک میں ان میں سے ایک ایسی چمک ہوگی کہ اس کے دیکھنے سے خدا یاد آجائیگا اور دلوں پر ان کا ایک خوفناک اثر پڑے گا اور وہ اپنی قوت اور شدت اور نقصان رسانی میں غیر معمولی ہوں گے جن کے دیکھنے سے انسانوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔یہ سب کچھ خدا کی غیرت کرے گی کیونکہ لوگوں نے وقت کو شناخت نہیں کیا۔‘(۲) اپریل ۱۹۳۸ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو رویا و کشوف کے ذریعہ ایک ایسی خوفناک تباہی کی خبر دی گئی جس نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا تھا۔پہلے حضور نے نیم غنودگی میں نظارا دیکھا کہ آپ نے سورۃ نوح کی تلاوت کی ہے۔اس سورۃ میں حضرت نوح کی تبلیغ ، ان کی قوم کے انکار اور اس کے نتیجے میں آنے والے عذاب کا ذکر ہے۔اس کے ایک ہفتہ کے بعد آپ نے رویا دیکھا کہ حضور اٹلی اور برطانیہ کے درمیان سمندر میں ایک کشتی میں ہیں اور شدید گولہ باری شروع ہو جاتی ہے حتی کہ معلوم ہوتا ہے کہ فضا گولوں سے بھر گئی ہے۔اسی اثناء میں یکدم آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ ایک زبر دست طوفان آیا ہے اور دنیا میں پانی ہی پانی ہو گیا ہے۔اس رویا میں اٹلی کو مغرب میں