سلسلہ احمدیہ — Page 42
42 ہانگ کانگ اور سنگا پور مشن : ۱۹۳۵ء میں مشرق بعید میں احمدیت کی تبلیغ کا آغاز ہوا۔جاپان مبلغین بھجوانے کے علاوہ ،ہانگ کانگ کے لئے صوفی عبدالغفور صاحب کو بھیجو یا گیا۔انہوں نے ۱۹۳۵ء میں ہانگ کانگ مشن کا اجراء فرمایا۔آپ ایک عمدہ مقرر تھے۔آپ نے سوسائیٹیوں اور جلسوں میں تقاریر کر کے اہلِ ہانگ کانگ تک احمدیت کا پیغام پہنچانا شروع کیا۔آپ نے تین سال تک وہاں پر فریضہ تبلیغ ادا کیا۔۱۹۳۶ء میں یہاں پر اسلامی اصول کی فلاسفی کا چینی ترجمہ شائع کیا گیا اور پھر متعدد تبلیغی ٹریکٹ شائع کئے گئے۔وسط ۱۹۳۷ء میں مولوی عبد الواحد صاحب ہانگ کانگ میں تشریف لائے۔اس سے قبل آپ کنٹن ( چین ) میں زبان سیکھتے رہے تھے۔آپ نے ڈھائی سال تک یہاں پر قیام کیا اور لوگوں تک اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔اکتوبر ۱۹۳۷ء میں مکرم محمد اسحاق صاحب مبلغ بن کر ہانگ کانگ تشریف لے گئے۔اور تبلیغ کا کام جاری رکھا۔۱۹۳۹ء میں سنگا پور میں مکرم غلام حسین صاحب ایاز مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔سنگاپور میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے۔ان کی طرف سے شدید مخالفانہ ردعمل دکھایا گیا۔جمیعۃ دعوۃ اسلامیہ نے جلسوں میں احمدیوں پر کفر کے فتوے لگائے اور لوگوں کو اکسایا کہ ان کا قتل کرنا جائز ہے۔کچھ احمد یوں کو مارا پیٹا گیا۔راہ چلتے احمدیوں کو گالیاں دے کر تنگ بھی کیا گیا۔لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود سنگاپور کے باشندوں کو پیغام حق پہنچایا جا رہا تھا اور ایک ایک کر کے سعید وجود احمدیت میں داخل ہورہے تھے۔یہ ایک مختصر خاکہ ہے کہ ۱۹۳۹ء میں اکناف عالم میں احمدیت کا پیغام کس طرح پہنچایا جا رہا تھا اور کس طرح مختلف مقامات پر احمدیت کے چھوٹے چھوٹے جزیرے بنے شروع ہوئے تھے۔تاریخ کے اس موڑ پر دنیا ایک ایسی تباہی کے کنارے پر کھڑی تھی جس کی نظیر اس سے قبل کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔دنیا کو ایسا دھکا لگنے والا تھا جس سے تمام عالم کا سیاسی منظر ، پوری دنیا کی اقتصادیات اور معاشی قدریں سب کچھ تبدیل ہو کر رہ جانا تھا۔یا دوسرے لفظوں میں اس واقعہ نے بیسویں صدی کو دو موٹے حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔اور اس سے وقتی طور پر جماعت کی عالمگیر تبلیغ کی مہم بھی متاثر ہوئی۔