سلسلہ احمدیہ — Page 497
497 میرے درمیان دودھ کا دریا بہتا ہے تو ان کے اور میرے درمیان دودھ کے سات دریا بہتے ہیں۔جب تک مجھ میں طاقت ہے صبر ہی کرتا جاؤں گا۔یہانتک کہ حالات مجھے مجبور نہ کر دیں کوئی قدم اُن کے خلاف نہ اُٹھاؤں گا (۱۱)۔مولوی عبدالوہاب صاحب تقسیم ہند کے بعد کچھ عرصہ کے لئے قادیان رہے۔یہاں پر بھی ان کی حرکات کی وجہ سے مسلسل مسائل پیدا ہوتے رہے۔اور وہ اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے بعض درویشوں کو یہاں تک کہہ دیا کہ تم یہاں مفت کی روٹیاں کھا رہے ہو، جاؤ جا کر کوئی کام کرو یہاں پر کیا رکھا ہے۔ان پر سلسلہ کے اموال فروخت کرنے کا الزام بھی ثابت ہوا۔آخر ان کی حرکات سے تنگ آکر انہیں پاکستان بھجوا دیا گیا۔مولوی عبدالوہاب صاحب کے چھوٹے بھائی عبدالمنان صاحب عمر بھی حضرت مصلح موعودؓ کے خلاف نیش زنی میں پیش پیش تھے۔اور ان کا انداز یہ ہوتا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔مثلاً اگر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خدام الاحمدیہ کے اجلاس میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی تلقین کرتے تو یہ لوگوں کے کان میں کہنا شروع کر دیتے کہ ان سے پوچھو کہ یہ خود گھر کے کتنے کام کرتے ہیں؟ ماسٹر ابراہیم جمونی صاحب کہتے ہیں کہ ایک بار میں نے ان کے بہکانے پر یہ سوال حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے کر دیا۔اس پر آپ نے تحمل سے ان کاموں کی طویل فہرست گنوائی جو سلسلہ کی طرف سے آپ کے سپرد تھے اور پھر فرمایا کہ کیا آپ کے خیال میں یہ سب کام کرنے کے بعد میرے پاس کوئی وقت بیچ سکتا ہے کہ میں اپنے گھر کے کام کروں۔ابراہیم صاحب کہتے ہیں کہ مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ میں نے غلط سوال کیا ہے۔(۱۲) نظام خلافت کے خلاف فتنہ اُٹھانے والے اندرونی عناصر کا ہمیشہ سے یہ طریق رہا ہے کہ یہ لوگ موقع بھی ملے تو صحیح فورم پر اپنے اعتراضات پیش نہیں کرتے۔کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اعتراضات غلط ہیں۔اگر ان پر تحقیق کی گئی تو یہ اعتراضات غلط ثابت ہوں گے۔لیکن یہ گروہ ادھر اُدھر لوگوں کے سامنے اعتراضات کر کے وسوسے پھیلانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔اس فتنے میں ملوث دیگر افراد کی طرح مولوی عبد المنان صاحب کا بھی یہی طریق تھا۔اور جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری شروع ہوئی تو اس وسوسہ اندازی نے ایک اور خطرناک انداز