سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 492 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 492

492 جب اُس سے اختلاف ہوتا تو اسے معزول کر دیتے۔ان کے ذہنوں میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ اُن کی ناقص عقل قرآن کریم کا جو بھی مطلب سمجھ پائی ہے وہی حرف آخر ہے اور اس ناقص فہم کی بنا پر انہیں یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں خلیفہ وقت کی نافرمانی کریں، اسے معزول کرنے کا مطالبہ کریں یا چاہیں تو اُس پر کفر کا فتویٰ لگا دیں۔ان کی زبانوں پر احکم اللہ کانعرہ تھا اور اصل میں غرض یہ تھی کہ ہمارا حکم چلے۔اسی لئے ان کے بہت سے فرقے اپنے سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کی قتل و غارت جائز سمجھتے تھے۔ان کی سرکشی ایک نا قابل علاج مرض بن چکی تھی۔اور ان کی ریشہ دوانیوں نے عالم اسلام کو بہت نقصان پہنچایا۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور مزید فتنوں کی پیشگوئی: آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق حضرت علی کے بعد خلافت راشدہ کی نعمت مسلمانوں سے واپس لے لی گئی۔مگر جب ظہور مسیح موعود کا زمانہ آیا تو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ہی دوبارہ خلافت علی منہاج النبوت قائم ہوئی۔لیکن اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ میں بھی خوارج جیسے لوگ فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعوڈ ایک رؤیا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضی ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروه خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودد سے مجھے فرماتے ہیں کہ يا عَلِيُّ دَعَهُم وَ أَنصَارَهُم وَزِرَاعَتَهُم یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔(۵) چنانچہ جیسا کہ کتاب کے حصہ اول میں تفصیلی ذکر آچکا ہے کہ خلیفہ امسح الاول کی خلافت کے دوران ایک طبقے نے نظام خلافت اور حضرت خلیفتہ اسیح الاول پر اعتراضات شروع کئے اور پھر