سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 489 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 489

489 شروع کر دیں۔عبداللہ بن سبا نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے وصی حضرت علی ہیں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان نے آپ کا حق تلف کیا ہے۔اس نے اس خیال کی تشہیر شروع کر دی کہ آنحضرت ﷺ اس دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔اس سے غرض یہی معلوم ہوتی تھی کہ خلیفہ وقت سے لوگوں کی عقیدت کم ہو اور لوگ فرضی رجعت کی بحثوں میں پڑ جائیں اور بعض لوگ اس فتنے میں مبتلا بھی ہو گئے۔بعض روایتوں کے مطابق اس کا انجام یہ ہوا کہ بعد میں اس کی فتنہ پروریوں کی وجہ سے حضرت علیؓ نے اپنے عہد میں اسے سزائے موت دی تھی۔مفسدین جہاں ایک طرف حضرت عثمان کو معزول کرنے کا مطالبہ پیش کر رہے تھے ، وہاں دوسری طرف ان کے مختلف گروہ آئندہ خلیفہ کے لئے مختلف کبار صحابہ کا نام لے رہے تھے۔اور ان کا طریق یہ ہوتا تھا کہ حج کے لئے روانگی جیسے موقع پر جب ایک مجمع جمع ہوتا ہے ان کے ایجنٹ ایسے اشعار پڑھتے جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ آئندہ خلیفہ کون ہوگا۔اور ایک شعر میں ہی دو تین اصحاب کے نام لے کر یہ ذکر کیا جاتا کہ یہ لوگ بھی خلیفہ بننے کے لئے موزوں ہیں۔ایک خلیفہ کی زندگی میں آئندہ ہونے والے خلیفہ کے متعلق اس طرح ذکر کرنا ایک رذیل حرکت تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح اپنے فتنے کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ایسے مواقع پر بہت سے لوگ یہی گمان کرتے کہ ایک ان پڑھ بدو شعر پڑھ رہا ہے اور اس کا سختی سے نوٹس نہ لیتے۔مفسدین مصر حضرت علی کا ، کوفہ کے فتنہ پرداز حضرت زبیر نگا اور بصرہ سے تعلق رکنے والے مفسدین حضرت طلحہ کا نام لے رہے تھے۔یہ لوگ ہر ایک کی ذہنیت کو اپنے جیسا سمجھتے تھے۔ان کا خام خیال تھا کہ اس طرح یہ صحابہ ان کے ہمنوا ہو جائیں گے۔جب ان فسادیوں نے مدینہ پر ہلہ بولا تو انہوں نے ذوالمرہ اور ذ وخشب کے مقامات پر ڈیرہ لگایا۔پھر یہ لوگ ان صحابہ کے پاس گئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا تو حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت طلحہ نے انہیں دھتکار دیا۔اور ان تینوں صحابہ نے مفسدوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان مقامات پر ڈیرہ لگانے والے لشکر لعنتی ہوں گے۔مگر مدینہ سے باہر یہ لوگ عوام الناس میں طرح طرح کے جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے۔کبھی ایک صحابی کا نام لیتے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اور کبھی دوسرے کا نام لیتے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اور ان کی طرف سے جعلی خط بھی بنا لیتے۔مدینہ کے اکثر لوگ صحابہ کی موجودگی کی وجہ سے باغیوں کے