سلسلہ احمدیہ — Page 39
39 مکرم مولانا احمد خان نسیم صاحب کو برما میں تبلیغ کے لئے بھجوایا اور ہدایت دی کہ زیادہ تر تبلیغی کوششیں زیر آبادی کے لوگوں میں کی جائیں۔زیر آبادی کے لوگ ہندوستان کے ان باشندوں کی اولا د سے تھے جو شاہ شجاع کے زمانے میں ہندوستان سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔مکرم احمد خان صاحب نسیم نے یہاں پر رہنے والے احمدیوں کے ساتھ مل کر تبلیغ شروع کی اور جلد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔زیادہ تر نواحمدی زیر آبادی سے تعلق رکھتے تھے۔(۱) (۱) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء۔۱۹۳۹ء ص ۱۵۱_۱۵۵ سیلون (موجودہ سری لنکا) سیلون ان خوش قسمت ممالک میں سے ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی احمدیت کا پودا لگ گیا تھا۔اور آپ کی مبارک زندگی میں سیلون کے بعض افراد کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام جماعت کے انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ذریعہ سیلون میں پہنچا۔اور اسی دور میں ایک احمدی محترم منشی محمد حیدر خان صاحب سیلون میں وارد ہوئے اور اپنے طور پر احمدیت کا پیغام یہاں رہنے والوں کو پہنچانا شروع کیا۔ان کی تبلیغ سے سیلون کے شہر کینڈی میں مکرم غوث محمد اکبر صاحب اور پھر مسلمانوں کی ایک انجمن کے صدر مکرم عبد العزیز صاحب تحریری بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔آپ نے احمدیت کے متعلق ایک ٹریکٹ بھی شائع کیا۔۱۹۱۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت صوفی غلام محمد صاحب بطور مبلغ ماریشس جا رہے تھے۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر تین ماہ کے لئے سیلیون رکے۔آپ نے کولمبو اور کینڈی میں تبلیغ کی اور اس کے نتیجے میں تمہیں افراد بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔آپ نے یہاں پر متعد د تبلیغی لیکچر بھی دیئے اور آپ کے ایک لیکچر کو ایک مقامی اخبار نے شائع کیا۔ان کاوشوں کے ساتھ ہی مخالفت کا آغاز ہو گیا۔اور جماعت کے مخالف مولویوں نے حکومت کو درخواست دی کہ سیلون میں احمدیوں کے مبلغ کے داخلے پر پابندی لگائی جائے (۱)۔اور اُس وقت حکومت نے سیلون میں احمدی مبلغین کی آمد پر پابندی لگا دی جو بعد میں اُٹھالی گئی۔۱۹۱۶ء کی عید کے موقع پر عبدالعزیز صاحب کے ٹریکٹ کا تامل