سلسلہ احمدیہ — Page 479
479 اس کانفرنس کا فیصلہ حضور نے زیورک میں قیام کے دوران ، وسط جون میں ہی فرما لیا تھا۔چنانچہ یورپ، امریکہ اور نائیجیریا کے مبلغین کو زیورک ہی سے ایجنڈا بمعہ ایک سوالنامہ کے بھجوادیا گیا تھا۔تا کہ تمام مبلغین مقامی جماعتوں اور دوسرے مبلغین سے مشورہ کر کے اور پوری تیاری کر کے کانفرنس میں شامل ہوں۔اس کانفرنس کے افتتاح کے لئے حضور کی لندن آمد کے بیس روز کے بعد ۲۳ جولائی ۱۹۵۵ء کا دن مقرر کیا گیا تھا۔اس میں شرکت کے لئے پہلے ہی امریکہ ، غرب الہند، افریقہ اور یورپی ممالک میں متعین مبلغین کو اطلاع بھجوائی جا چکی تھی اور وہ سب اس کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔کانفرنس سے دو روز قبل حضور کی طرف سے اس بارے میں بذریعہ تار یہ پیغام ملا جو کہ الفضل میں شائع کیا گیا۔حضرت محمد مصطفے ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے بعد کل پہلی مرتبہ دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے لنڈن میں ایک نہایت اور عظیم الشان کانفرنس شروع ہو رہی ہے۔کانفرنس میں امریکہ۔غرب الہند۔افریقہ۔اور یورپ کے تقریباً تمام اہم ممالک میں متعین احمدی مبلغین شامل ہوں گے۔۲۲ جولائی سے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی اس کا نفرنس میں شامل ہورہے ہیں۔دوست کا نفرنس کی نمایاں کامیابی اور اس کے وسیع ترین کامیاب نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور درد دل سے دعا کریں۔(۳۳) اس کانفرنس کے لئے وسط جون میں ایک سوالنامہ ایجنڈے سمیت مبلغین کو بھجوایا جا چکا تھا تا کہ شرکاء اپنے ملکوں کے مبلغین سے مشورہ کر کے پوری تیاری کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کریں (۳۴)۔یہ تاریخی کا نفرنس ۶۳ میلر وز روڈ پر واقع مشن ہاؤس میں منعقد ہوئی۔یہ کانفرنس ۲۲ جولائی سے شروع ہو کر تین روز جاری رہی اور اس میں پانچ اجلاس ہوئے۔مبلغین کی اس کا نفرنس میں شرکت کے لئے نائیجیریا سے مکرم نسیم سیفی صاحب،امریکہ سے مکرم خلیل احمد ناصر صاحب، سوٹزرلینڈ سے مکرم شیخ ناصر احمد صاحب، پین سے مکرم کرم الہی ظفر صاحب، جرمنی سے مکرم عبداللطیف صاحب، ہالینڈ سے مکرم غلام احمد صاحب بشیر اور ٹرینیڈاڈ سے مکرم محمد الحق صاحب تشریف لائے۔برطانیہ سے جماعت کے مبلغ مکرم مولود احمد صاحب اور مکرم میرمحمود احمد صاحب