سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 480 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 480

480 سیکریٹری لندن مشن اور مرکزی عہدیداران میں سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور وکیل التجارت قریشی عبدالرشید صاحب اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے شرکت فرمائی۔ان سب اجلاسوں میں حضور نے شرکت فرمائی۔جس وقفے میں حضور کچھ دیر کے لئے تشریف فرما نہیں ہوتے تھے ، اس وقفے میں مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کانفرنس کی صدارت فرماتے تھے (۳۵)۔ان اجلاسوں میں ایک ایک ملک کی رپورٹ کو لے کر اُس پر غور کیا گیا۔مشنوں کی ترقی ، نئے مشنوں کے قیام مختلف زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی تیاری اور اشاعت اور مساجد کی تعمیر کے متعلق فیصلے کئے گئے۔تمام مبلغین انفرادی طور پر بھی حضور سے ملاقات کر کے ہدایات حاصل کرتے رہے۔اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اس کانفرنس میں ہونے والے مشوروں میں شرکت فرمائی۔اسلام کی عالمی تبلیغ کو تیز تر کرنے کے لئے اور اس مقصد کے لئے ضروری ذرائع مہیا کرنے کے لئے آخری رپورٹ کافی بحث و تمہیٹ کے بعد منظور کر لی گئی۔کانفرنس کے اختتام پر تمام مبلغین نے از سر نو اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے کا عہد کیا۔اس طرح یہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔(۳۶) مخالفین کی مایوسی : گذشتہ چند برسوں میں مخالفین جماعت کا ایک کے بعد دوسرا منصوبہ ناکام ہوتا گیا تھا۔۱۹۵۳ء کی شورش کے نتیجے میں وہ اپنی بدنامی کے سوا کچھ نہیں حاصل کر سکے تھے اور جماعت کو مٹانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا اور اُس میں ناکامی ہوئی۔حضرت مصلح موعودؓ کی بیماری شروع ہوئی تو جماعت کے اندر شدید اختلافات کی جھوٹی خبریں شائع کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی اس میں بھی کامیابی نہ ہوئی۔اب ان میں سے نسبتاً حقیقت پسند طبقہ اس بات کا اعتراف کر رہے تھے کہ یہ سازشیں جماعت احمدیہ کی ترقی کو روکنے میں ناکام رہی تھیں اور ان پر اپنی سوچ کی سطحیت واضح ہو رہی تھی۔چنانچہ جب لندن میں ہونے والی کانفرنس منعقد ہوئی تو جماعت کے ایک شدید مخالف جریدے المنیر نے بڑی حسرت سے یہ خبر اس تبصرے کے ساتھ شائع کی:۔