سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 38 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 38

38 جاوا میں احمدیہ مشن ۱۹۳۰ء میں کھولا گیا اور ابتدائی سالوں میں یہاں چھ جماعتیں قائم ہو گئیں۔مشن ہاؤس کرائے کی عمارت میں شروع کیا گیا اور گاروت میں زمین خرید کر مسجد کی تعمیر شروع کر دی گئی۔تبلیغی مجالس میں غیر احمدی مسلمانوں اور عیسائیوں سے دلائل کا تبادلہ ہوتا اور اس طرح لوگ احمدیت کی صداقت کے دلائل سنتے۔اور سونڈی اور ملا یا زبان میں لٹریچر شائع کر کے تبلیغ کے کام کو اور وسعت دی گئی۔مولوی رحمت علی صاحب اور مولوی عبدالواحد صاحب کے سمیت یہاں پر پانچ مبلغین مصروف تبلیغ تھے۔مسلمانوں کی تنظیمیں مخالفت میں پیش پیش تھیں اور ایک تنظیم Party Anti Ahmaddiyyah خالصتاً احمدیت کی مخالفت کے لئے بنائی گئی تھی۔ان عوامل کے باوجود جماعت ترقی کر رہی تھی اور تبلیغی لٹریچر شائع کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا پر لیس بھی خریدا گیا تھا۔جاوا میں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم بھی قائم ہوگئی تھی اور ایو کرسینہ صاحبہ اس کی پہلی صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی تھیں۔مکرم مولوی رحمت اللہ صاحب جو ستمبر ۱۹۳۷ء میں تیسری دفعہ جاوا بھیجے گئے تھے سوا دوسال کے بعد دسمبر ۱۹۳۹ء کو قادیان واپس تشریف لے آئے۔(۱ تا ۵) (۱) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد به ۱۹۳۴ء۔۱۹۳۵، ص۹۰ ۱۰۰ (۲) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۵ء۔۱۹۳۶ ء ص ۱۲۱۔۱۴۱ (۳) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء ص ۱۳۹-۱۴۲ (۴) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء۔۱۹۳۹ ص ۱۴۱-۱۵۰ (۵) الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۰ء ص ۷ پرما برما کی اکثر آبادی بدھ مذہب سے وابستہ ہے۔کچھ مسلمان شاہ شجاع کے زمانے میں وہاں جا کر آباد ہوئے تھے۔ان کو زیر آبادی کہا جاتا تھا۔لیکن یہ اپنے ماحول میں بھی پسماندہ سمجھے جاتے تھے۔یہاں پر مختلف مقامات پر احمدی تو پہلے سے موجود تھے اور ۱۹۳۷ء میں ایک دوست احسان اللہ سکدار پیدل برما سے قادیان بھی آئے تھے۔اپریل ۱۹۳۸ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے