سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 459 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 459

459 کا نفرنس منعقد کی جائے اور حضور اس میں بنفس نفیس شامل ہوں۔(۹) جب یہ طے ہو گیا کہ حضور ۲۳ مارچ کو ربوہ سے لاہور تشریف لے جائیں گے تاکہ وہاں سے پہلے کراچی اور پھر یورپ تشریف لے جاسکیں تو آپ نے ان حالات میں جماعت کے نام ایک پیغام میں منافقین کی طرف سے ممکنہ فتنہ سے خبر دار کرتے ہوئے تحریر فرمایا احباب کو چاہیے کہ دعاؤں میں لگے رہیں۔تا کہ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔میں بھی انشاء اللہ جس حد تک مجھے توفیق ملی۔دعائیں کرتا جاؤں گا۔۔۔احباب کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ جب کبھی ذمہ دار افسر ادھر اُدھر ہوتا ہے۔تو شریر لوگ فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ہماری جماعت بھی ایسے شریروں سے خالی نہیں۔بعض لوگ اپنے لئے درجہ چاہتے ہیں۔بعض لوگ اپنے لئے شہرت چاہتے ہیں۔ایسا کوئی شخص بھی پیدا ہو یا کوئی بھی آواز اُٹھائے خواہ کسی گاؤں میں یا شہر میں یا علاقہ میں تو اس بات کو کبھی برداشت نہ کریں۔کبھی یہ نہ سمجھیں کہ یہ معمولی بات ہے۔فساد کوئی بھی معمولی نہیں ہوتا۔حدیثیں اس پر شاہد ہیں۔جب کوئی شخص اختلافی آواز اٹھائے فوراً لاحول اور استغفار پڑھیں۔(10) حضور نے اپنی عدم موجودگی میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو امیر مقامی اور مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر کو ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔(۱۱) ربوہ سے روانگی: ۲۳ مارچ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ربوہ سے لاہور روانہ ہوئے۔تقریباً نو بجے آپ قصر خلافت کے اُس دروازے سے باہر تشریف لائے جو مسجد مبارک کے عقب کی جانب ہے۔آپ نے اپنے داماد مکرم سید داؤ د احمد صاحب کے کندھے کا سہارا لیا ہوا تھا۔حضور نے گاڑی میں بیٹھ کر اجتمائی دعا کرائی۔احباب اس عاجزی اور الحاج سے دعائیں کر رہے تھے کہ مسجد مبارک اور قصر خلافت سے ملحقہ سارا علاقہ ہچکیوں اور سکیوں کی درد انگیز آوازوں سے گونج رہا تھا۔جب حضور کی موٹر حرکت میں آئی تو فضا فی امان اللہ اور بسلامت روی و باز آئی کی آوازوں سے گونج