سلسلہ احمدیہ — Page 458
458 رائے بھی دی جا رہی تھی کہ بیشتر اس کے کہ بیماری کا اثر بڑھے بہتر ہوگا کہ آپ علاج کے لئے بیرون ملک تشریف لے جائیں۔امریکہ جانے کی تجویز تھی مگر وہاں کے لئے زر مبادلہ حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا تھا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تار مشورہ دیا کہ اب یورپ میں علاج کی بہت سی سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں اس لئے مناسب ہوگا اگر حضور علاج کے لئے یورپ تشریف لے آئیں۔(۷۱) حضور نے اا مارچ کو جماعت کے نام ایک پیغام میں اپنی علالت کی تفصیلات بیان فرمائیں اور اس پیغام کے آخر میں آپ نے تحریر فرمایا اپنے پرانے حق کی بناء پر جو پچاس سال سے زیادہ عرصہ کا ہے۔تمام بہنوں اور بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بے عملی کی زندگی سے بچائے۔کیونکہ اگر یہ زندگی خدانخواستہ لمبی ہونی ہے تو مجھے اپنی زندگی سے موت بھلی معلوم ہو گی۔سو میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے خدا جب میرا وجود اس دنیا کے لئے بیکار ہے۔تو تو مجھے اپنے پاس جگہ دے۔جہاں میں کام کر سکوں۔سو اگر چاہتے ہو کہ میری نگرانی میں اسلام کی فتح کا دن دیکھو تو دعاؤں اور قربانیوں میں لگ جاؤ۔تا کہ خدا تمہاری مدد کرے اور جو کام ہم نے مل کر شروع کیا تھا۔وہ ہم اپنی آنکھوں سے کامیاب طور پر پورا ہوتا دیکھیں۔(۸) یورپ جانے کا فیصلہ ہوتا ہے: اس سے قبل ۱۹۵۴ء کی مجلس مشاورت میں حضور کی خدمت میں عرض کی گئی تھی کہ حضور علاج کے لئے امریکہ تشریف لے جائیں۔مگر اُس وقت حضور نے مختلف وجوہات کی بنا پر یہ مشورہ قبول نہیں فرمایا تھا۔اور یہ بھی فرمایا تھا کہ میری صحت اس سفر کی اجازت نہیں دیتی۔مگر اب طبی ضروریات کی بنا پر یہ سفر ضروری ہو گیا تھا۔علاوہ ازیں یورپ کے ممالک میں جماعت کے مشن بھی ایک طویل عرصہ سے اس بات سے محروم تھے کہ خلیفہ وقت خود وہاں رونق افروز ہوں اور ان کی براہ راست راہنمائی فرمائیں۔اس بات کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا تھا کہ یورپ میں جماعت کے مبلغین کی ایک