سلسلہ احمدیہ — Page 457
457 حضرت خلیفہ اسیح الثانی پر بیماری کا حملہ اور دورہ یورپ قاتلانہ حملے کے بعد حضور کی صحت کمزور رہنے لگی تھی۔کمزور صحت اور ۶۶ برس کی عمر کے باوجود حضور کو جماعتی امور کی ادائیگی کے لئے دن رات مصروف رہنا پڑتا تھا۔۲۶ فروری ۱۹۵۵ء کو حضور نے حسب پروگرام عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا۔مغرب کی نماز کے بعد حضور لیٹے ہوئے تھے، جب حضور نے اٹھنا چاہا تو حضور گر پڑے اور بیہوشی طاری ہوگئی۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ اس وقت آپ کے پاس تھیں۔انہوں نے بمشکل آپ کو سہارا دے کر چار پائی پر لیٹا یا۔اسوقت آپ کے جسم مبارک کا بایاں حصہ فالج کی حالت میں تھا اور زبان پر بھی کسی قدر اثر تھا۔معائنہ ہونے پر معلوم ہوا کہ آپ کا بلڈ پریشر زیادہ ہے۔مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے حضور کا علاج شروع کیا اور لاہور سے ماہر ڈاکٹروں کو بھی بلایا گیا۔جب مساجد میں دعاؤں کے لئے اعلان کرایا گیا تو بے شمار احباب بے قراری کی حالت میں قصر خلافت پہنچنا شروع ہو گئے۔وہ رات اہلِ ربوہ نے دعاؤں اور نوافل میں مشغول گذاری اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی جسم سے فالج کا اثر ختم ہونا شروع ہوا اور حس واپس آنی شروع ہوئی۔اور حضور جلد ہوش میں آگئے۔اگلے روز تک صرف بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر اور کسی قدر زبان پر اثر تھا۔باقی حصے سے بیماری کا اثر غائب ہو چکا تھا۔بعض ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حضور کو Cerebral Thrombosis کا حملہ ہوا ہے اور بعض کی رائے تھی کہ یہ حملہ دماغ کی رگوں کے Vasospasm کی وجہ سے تھا۔پوری جماعت صدقات اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا فضل طلب کر رہی تھی۔4 مارچ تک حالت بہتر ہو رہی تھی لیکن ابھی بائیں حصے کی حرکت مکمل نہیں تھی اور کسی قدر اثر حافظہ اور زبان پر تھا۔ے مارچ کو ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق چند قدم چلایا گیا اور آپ آدھے گھنٹے کے لئے کرسی پر رونق افروز رہے۔اس سے آپ کی طبیعت میں بشاشت پیدا ہوئی۔9 مارچ کو حضور علاج کے لئے لاہور تشریف لے گئے۔حضرت مصلح موعودؓ کی صحت کے پیش نظر ڈاکٹر صاحبان مشورہ دے رہے تھے کہ آپ مکمل طور پر آرام فرما ئیں اور آپ کو ہر قسم کے تفکرات اور پریشانیوں سے دور رکھا جائے۔اس کے ساتھ یہ