سلسلہ احمدیہ — Page 440
440 کوئی غلط بات نہیں بلکہ موجب ثواب ہو گا۔۱۹۵۳ء کی شورش کی ناکامی کے بعد اب بعض مخالفین نے زیادہ منظم طریق پر حضور کے قتل کی سازش تیار کی۔(۱) مارچ ۱۹۵۴ء کے شروع میں ایک سولہ سترہ سال کا نوجوان ربوہ آیا جس کا نام عبدالحمید تھا۔عبد الحمید چک ۲۲۰ گ ب ضلع لائکپور کا رہنے والا تھا۔تقسیم سے قبل اس کے گھرانے کی رہائش جمال پور ضلع جالندھر میں تھی۔چونکہ وہ حضرت مصلح موعودؓ کے ایک پہریدار نورمحمد کے علاقے کا رہنے والا تھا ، اس لئے اُس کے ہاں ربوہ کے قریب ایک گاؤں احمد نگر میں ٹھہر نے میں کامیاب ہو گیا۔کچھ دن اس نے ربوہ کے حالات دیکھے۔پہلے تو اُس نے حضور سے ملاقات کرنے کی کوشش کی مگر جب اس میں کامیابی نہ ہوئی تو اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ احمدی ہونا چاہتا ہے۔اس امید پر کہ اس طرح اسے علیحدگی میں ملاقات کرنے کا موقع مل جائے گا، اس نے بیعت فارم بھی پر کر دیا۔لیکن جب اس کے بعد بھی اُسے حضور سے ملاقات کا موقع نہیں ملا تو اس نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ایک راستہ تلاش کیا۔۱۰ مارچ کو وہ مسجد مبارک میں عصر کی نماز میں شامل ہوا۔جب حضرت مصلح موعود نماز کے بعد مسجد سے باہر تشریف لے جارہے تھے اور پہریدار کا منہ بھی دوسری طرف تھا تو اُس نے آگے بڑھ کر حضور کے بائیں کندھے کو زور سے پکڑا۔اس سے غرض غالباً ی تھی کہ حضور بائیں طرف دیکھیں تو وہ دائیں طرف سے آپ کی شہ رگ پر حملہ کر دے۔مگر اس متوقع رد عمل کی بجائے حضور نے اپنے کندھے کو زور سے جھٹکا دیا تو اُس نے پیچھے ہی سے دائیں طرف حضور کی گردن میں چاقو گھونپ دیا۔یہ وار اس زور سے کیا گیا تھا کہ چاقو کا پھل ٹیڑھا ہو گیا اور تین انچ چوڑا اور سوا دو انچ گہرا زخم آیا جو شہ رگ کے بالکل قریب تھا۔حضور حملے کی شدت سے لڑکھڑا کر گرنے لگے پہریدار نے حضور کو سنبھالا۔حملہ آور نے ایک اور وار کیا مگر حضور کے پہریدار محمد اقبال صاحب بیچ میں آگئے اور یہ وار اُن کو لگا۔اتنے میں کچھ احباب نے حملہ آور کو پکڑا۔اُس وقت حملہ آور یا علی کے نعرے لگا رہا تھا۔اس کو قابو کرتے ہوئے اور احباب بھی زخمی ہوئے۔حضور نے زخم پر ہاتھ رکھ لیا۔زخم سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔حضور کے تمام کپڑے خون سے تر بتر ہو گئے۔حضور کے ساتھ چلنے والوں کے کپڑوں پر بھی خون کے قطرات گرے اور راستے میں زمین پر بھی خون گرتا رہا۔حضور نے بعد میں بیان فرمایا کہ اُس وقت حضور کو احساس نہیں ہوا تھا کہ