سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 35 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 35

35 تھے چنانچہ آپ نے احمدیت کی تبلیغ کے لیے بہت سے پمفلٹس شائع کیئے۔آپ کے دور میں ماریشس میں جلسہ سیرت النبی ﷺ کا آغاز ہوا۔ماریشس میں آریوں نے اسلام کے خلاف مہم چلائی ہوئی تھی۔آپ نے کامیابی کے ساتھ آریوں کا مقابلہ کیا۔۱۹۳۹ء میں ماریشس میں ۱۸ جماعتیں قائم تھیں۔جماعت کا ملکی مرکز روز بل کے مقام پر تھا۔جماعت کی طرف سے تبلیغی مساعی جاری تھی اور اردو انگریزی اور فرانسیسی زبان میں اشتہارات بھی شائع کیئے جاتے تھے (۱تا۳) (۱) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یه ۱۹۳۶ء۔۱۹۳۷، ص ۱۴۴-۱۴۵ (۲) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸، ص ۱۳۲ ۱۳۵ (۳) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ص ۱۹۳۹ء۔۱۹۴۰ء ص ۹۸ بلاد عربیه بلاد عربیہ بالخصوص حیفا و کبابیر ( فلسطین) میں جماعت کے قیام اور ابتدائی ترقی کا ذکر کتاب کے حصہ اول میں گذر چکا ہے۔جب ۱۹۳۱ء میں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کو واپس قادیان بلایا گیا تو مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب کو حیفا میں مبلغ مقرر کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ساڑھے چارسال نہایت کامیاب خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔۱۹۳۹ء میں یہاں پر مکرم چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔بلا دعر بیہ میں جماعت کا مرکز حیفا ( فلسطین) میں تھا۔یہ علاقہ برطانیہ کے زیر تسلط تھا۔اس دور میں فلسطین میں سیاسی مسائل کی وجہ سے امن عامہ کے حالات دگرگوں تھے۔ہر روز بیسیوں آدمی قتل ہو جاتے اور سینکڑوں کو جیل خانے میں ٹھونس دیا جاتا۔روزانہ کم و بیش دو تین کو تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔آنے جانے پر طرح طرح کی پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ان دشواریوں کی وجہ سے تبلیغ کا کام بہت محدود پیمانے پر ہی ہوسکتا تھا۔جماعت کبابیر اس وقت ایک نہایت خطرناک دور سے گذر رہی تھی۔ان ایام میں دہشت گردوں نے جماعت احمدیہ کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا چاہا۔شام سے فتوے بھجوائے گئے کہ احمدی مبلغ کو قتل کر دیا جائے اور جس مکان میں وہ رہتا ہے اسے ڈائنامائٹ سے اڑا دیا جائے۔اور دوسرے سرکردہ احمدیوں کو بھی قتل کر دیا جائے۔چنانچہ ایک دن کہا بیر کے احمدیوں کو پیغام ملا کہ پانچ سو پونڈ دوورنہ