سلسلہ احمدیہ — Page 439
439 حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ حملہ ۱۹۳۰ء کی دہائی میں احراریوں کے فتنے کے دوران، ۱۹۴۷ء کے پُر آشوب دور میں اور پھر ۱۹۵۳ء کے فسادات کے نتیجے میں جماعتِ احمد یہ اوپر تلے بہت سے ابتلاؤں سے گذری۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اولو العزم امام کی قیادت میں جماعت ہر ابتلاء سے سرخرو ہو کر نکلتی رہی۔یہ ادوار جماعت کے لئے بہت سی مشکلات لائے لیکن جماعت کو ایک نئی تیز رفتاری سے منزل کی طرف بڑھا کر رخصت ہوتے رہے۔اب مخالفین کے دل غیظ وغضب سے بھرے ہوئے تھے۔ان کا چلایا ہوا ہر تیر پلٹ کر ان ہی کے سینے میں پیوست ہو چکا تھا۔وہ یہ خیال کرتے تھے کہ ہر مشکل میں جماعت احمدیہ کا امام انہیں بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ان کے دل معرفت سے خالی تھے اس لئے تائید الہی کا مضمون سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔اور نہ ہی وہ ایسی روحانیت رکھتے تھے کہ یہ سمجھ پاتے کہ خلافت تو ایک جاری امر ہے۔وہ تو صرف یہی سوچ سکتے تھے کہ اگر ایک مرزا بشیر الدین محمود احمد کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو پھر جماعت احمدیہ کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔پھر اس مقصد کے لئے اتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔حضرت مصلح موعوددؓ کو شہید کرنے کی پہلے بھی کئی کوششیں ہو چکی تھیں۔ایک بار۱۹۴۳ء کے جلسے کی تقریر کے دوران ایک نامعلوم شخص نے ملائی کی پیالی ایک اور آدمی کو دی کہ حضور کو ضعف ہو رہا ہے یہ پیالی آپ کو پیش کر دی جائے اور بعد میں دریافت ہوا کہ اس میں زہر ملا ہوا تھا۔ایک مرتبہ ایک دیسی پادری جے میتھیوز نے اپنی بیوی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا بعد میں اُس نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اصل میں میں مرزا صاحب کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن اس دوران میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا اور میں نے اسے قتل کر دیا۔ایک بار ایک پٹھان حضرت مصلح موعودؓ کو قتل کرنے کے لئے قادیان میں حضور کے ایک گھر دارالحمد کے دروازے تک چاقو لے کر آیا مگر ایک احمدی کو شک ہوا تو اسے پکڑ لیا گیا۔اس کے علاوہ بھی ایسے ہی کچھ اور واقعات ہوئے مگر اللہ تعالیٰ کی خاص تائید نے حضور کی حفاظت کی۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں احراری مسلسل لوگوں کو اس بات پر اکساتے رہے تھے کہ امام جماعت احمدیہ کوقتل کر دینا نہ صرف