سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 437 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 437

437 مرتبہ اس ترجمہ کا مطالعہ کیا۔(۴) اس ترجمہ کی اشاعت مشرقی افریقہ کی اسلامی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔جہاں اس ترجمہ کی اشاعت پر بہت سے غیر احمدیوں نے جماعت کی اس مساعی کی برملا تعریف کی وہاں جماعت کی یہ کامیابی کچھ لوگوں کے حسد کو بھڑ کانے کا باعث بھی بن گئی۔زنجبار کے ایک عالم شیخ عبداللہ صالح تھے۔وہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے کہ میں جماعت احمدیہ کے عقائد سے اختلاف رکھتا ہوں مگر احمدی اس بات کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کے خلاف کچھ لکھا جائے۔جب تک وہ اس کا جواب دے کر دشمن اسلام کو خاموش نہ کرا لیں اُس وقت تک دم نہیں لیتے۔(۵) لیکن اس ترجمہ کی اشاعت کے ساتھ انہیں بھی مقابلہ پر اپنا ترجمہ شائع کرنے کا خیال آیا۔اور انہوں نے اپنا ترجمہ شائع کرنا شروع کیا۔مگر حالت یہ تھی کہ ترجمہ کا ایک بڑا حصہ حرف بحرف نقل کیا گیا تھا، مگر حواشی میں جماعتی عقائد کی مخالفت کی گئی۔کہیں کہیں جماعت کے شائع کردہ ترجمہ سے مختلف ترجمہ پیش کیا جاتا ورنہ ان کی کاوش جماعت کے شائع کردہ ترجمہ کو نقل کرنے تک محدود تھی۔اس ترجمہ کو نیروبی کی اسلامک فاؤنڈیشن نے شائع کیا مگر خود جماعت کے مخالفین نے شور مچایا کہ شیخ عبداللہ صالح تو جماعت احمدیہ کے ترجمہ کی نقل کر رہے ہیں۔(۶) یوں تو ترجمہ کے بیشتر حصہ میں اس بات کے شواہد صاف نظر آتے ہیں کہ یہ ترجمہ جماعت کے ترجمہ کی نقل کر کے لکھا گیا ہے۔لیکن اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ یوں تو جہاں جہاں سورتوں کے آغاز پر بسم اللہ الرحمن الرحیم آتی ہے وہاں پر دکھانے کے لئے شیخ عبداللہ صالح صاحب نے جماعت کے ترجمہ سے مختلف ترجمہ کیا ہے لیکن جہاں پر سورۃ نمل میں سورۃ کے درمیان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم آتی ہے وہاں اس کا ترجمہ حرف بحرف وہی لکھا ہے جو جماعت کے ترجمہ میں لکھا گیا ہے اور اپنے ترجمہ کو ترک کر دیا گیا ہے۔اس ترجمہ میں خواہ آغاز میں سورۃ آل عمران یا سورۃ النسا کو دیکھیں یا قرآن کریم کے آخر میں سورۃ الناس ،سورۃ الفلق ، سورة الاخلاص ،سورۃ الکافرون کو دیکھیں یا درمیان میں سورۃ طہ' پر نظر ڈالیں شیخ عبداللہ صالح کا ترجمہ جماعت کے ترجمہ سے نقل کر لکھا گیا ہے۔کہیں کہیں ایک دو لفظ تبدیل کر دیئے گئے یا شاذ کے طور پر کسی آیت کا ترجمہ جماعت کے ترجمہ سے مختلف کر دیا گیا۔ورنہ نقل صاف نظر آتی ہے اور یہ ترجمہ اب تک اسی طرح شائع کیا جا رہا ہے۔اب جماعت کا ترجمہ تو ان کے ترجمہ سے کافی پہلے