سلسلہ احمدیہ — Page 436
436 کے معیار کی تعریف کی اور بعض مقامات پر تبدیلیوں کے متعلق آراء دیں۔ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کیا گیا۔اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل زبان میں سے کوئی موزوں شخص اس ترجمہ کا بغور جائزہ لے کر اسے خوب سے خوب تر بنائے۔۱۹۴۵ء میں مکرم امری عبیدی صاحب نے اس اہم پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔ان کے علاوہ مکرم مولا نا محمد منور صاحب، مبلغ سلسلہ نے بھی ترجمہ اور تفسیری نوٹوں کو مکمل کرنے اور ان پر نظر ثانی کرنے پر انتھک محنت کی۔مکرم امری عبیدی صاحب سواحیلی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے اور انہوں نے اس فن کے اصولوں کے متعلق ایک کتاب بھی تحریر کی تھی (۳) دیگر خوبیوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زبان دانی کا بھی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ان کی عرقریزی نے اس ترجمہ کا معیار بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔جب ترجمہ کی اشاعت کا وقت قریب آرہا تھا تو انہیں اس میں اتنا انہماک تھا کہ دن اور رات کا فرق مٹ گیا تھا۔کثرت کار کی وجہ سے ان کی نیندار گئی تھی۔نہ دن کو سو سکتے تھے ، نہ رات کو۔اور روزانہ سولہ سترہ گھنٹے کام کرنے کے عادی تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس ترجمہ کے لئے دیباچہ تحریر فرمایا۔حضور نے رسول کریم مے کے مبارک زمانہ میں نجاشی کے اُس انصاف کا ذکر فرمایا جو اس نے مسلمانوں سے کیا تھا۔اور مشرقی افریقہ کے باشندوں کو مخاطب کر کے فرمایا ”اے اہلِ افریقہ ! ایک دفعہ پھر اپنے اپنے عدل اور انصاف کا ثبوت دو اور پھر ایک سچائی کے قائم کرنے میں مدد دو جو سچائی تمہارے پیدا کرنے والے خدا نے بھیجی ہے۔جس سچائی کو قبول کرنے کے بغیر غلام تو میں آزاد نہیں ہوسکتیں۔مظلوم ظلم سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔قیدی قید خانوں سے چھوٹ نہیں سکتے۔امن، رفاہیت اور ترقی کا پیغام میں تمہیں پہنچا تا ہوں۔پیغام میرا نہیں بلکہ تمہارے اور میرے پیدا کرنے والے خدا کا پیغام ہے۔“ تمام تر تحقیق اور نظر ثانی کے بعد ۱۹۵۳ء میں ایسٹ افریقہ سٹینڈرڈ کے پریس میں اس ترجمہ کی دس ہزار کا پیاں شائع کی گئیں۔اس وقت کینیا میں آزادی کے لئے ماؤ ماؤ کی تحریک چل رہی تھی اور اس وجہ سے کینیا کے بہت سے باشندے حالت اسیری میں تھے۔اُن کیمپوں میں یہ ترجمہ بہت مقبول ہوا۔اور اس کے مطالعہ کے بعد بہت سے تعلیم یافتہ قیدیوں نے اسلام قبول کیا۔مسٹر جومو کینیاٹا ، جو بعد میں کینیا کے پہلے صدر بنے ، اس وقت قید میں تھے۔انہوں نے قید کی حالت میں چار