سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 435 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 435

435 سواحیلی ترجمه قرآن جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سواحیلی زبان مشرقی افریقہ کے ایک وسیع علاقہ میں بولی جاتی ہے۔عیسائی مشنری اس زبان میں کثرت سے اپنا لٹریچر شائع کر چکے تھے۔لیکن سواحیلی میں اسلامی لٹریچر بہت کم موجود تھا۔سواحیلی میں قرآنِ کریم کا ایک ہی ترجمہ موجود تھا اور وہ بھی ایک پادری گاڈفری ڈیل (Godfrey Dale) صاحب نے کیا تھا۔یہ ترجمہ ناقص تھا اور اس کے حواشی میں اسلامی تعلیمات پر اپنے نقطہ نگاہ سے حملے کئے گئے تھے۔بعض آیات کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا تھا اور بعض آیات کا ترجمہ اس انداز سے کیا گیا تھا کہ قرآنی تعلیمات پر اعتراضات وارد ہوں (۱)۔اس پس منظر میں اس بات کی ضرورت تھی کہ مسلمانوں کا کیا ہوا ایک ترجمہ شائع کیا جائے۔چنانچہ مشرقی افریقہ میں جماعت کے مشن کے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد مکرم شیخ مبارک صاحب نے اس کام کا آغا ز کر دیا۔اس سے قبل بھی کچھ مسلمان اس کام کو سر انجام دینے کی کوشش کر چکے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے میرٹھ کے مولوی عبد العلیم صاحب نے نیروبی کے ایک عالم مولوی سید عبداللہ شاہ صاحب کی وفات پر ان کی نعش کے سامنے مسلمانوں سے عہد لیا تھا کہ وہ سواحیلی میں قرآنِ کریم کا ترجمہ کریں گے۔ایک کثیر رقم بھی جمع کی گئی مگر ابتدائی جد وجہد کے بعد یہ معاملہ جلد ختم ہو گیا۔پھر ایک کوشش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے کی گئی۔اس تنظیم کو سر آغا خان نے قائم کیا تھا۔مگر چونکہ ترجمہ کرنے والے مخلصین مہیا نہیں ہو سکے تھے اس لئے یہ منصوبہ بھی جلد ختم ہو گیا۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے ۱۷ نومبر ۱۹۳۶ء کو ، جو رمضان المبارک کا پہلا دن تھا ، اس اہم کام کا آغاز کیا۔اس وقت شیخ صاحب ٹورا، تنزانیہ میں مقیم تھے۔(۲) اس کام میں کچھ مقامی احمدی اسا تذہ مکرم شیخ صاحب کی اعانت کر رہے تھے۔اور مسودہ ساتھ کے ساتھ ٹائپ بھی کیا جا رہا تھا۔(۱) ۱۹۴۳ء میں ابتدائی مسودہ مکمل ہو گیا۔اور اسے رائے کے لئے Inter-territorial Languages Committe for Swahili کو بھجوایا گیا۔ان کے ماہرین نے اس ترجمہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان کے ماہرین نے کئی صفحات پر مشتمل آراء بھجوائیں۔انہوں نے اس ترجمے