سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 430 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 430

430 ۵) اس شورش نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ملک میں پہلی مرتبہ مارشل لاء لگانا پڑا۔گو یہ محدود جگہ پر اور محدود وقت کیلئے لگایا گیا تھا۔مگر اس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں بار بار مارشل لاء لگتے رہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں سیاسی عمل کا تسلسل ختم ہو گیا۔۶) ان فسادات نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد گورنر جنرل نے ۱۷ ، اپریل ۱۹۵۳ء کو وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کی حکومت کو برطرف کر دیا۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ سر براہ مملکت نے سر براہ حکومت کو برطرف کیا۔اُس وقت سے یہ عمل شروع ہوا اور اب تک اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ملک کی تاریخ میں بار بارحکومتوں کو برطرف کیا گیا،جس سے مسائل بڑھتے گئے۔۱۹۵۳ء کے فسادات کے سیاسی نتائج کے متعلق ڈاکٹر صفدر محمود صاحب اپنی کتاب مسلم لیگ کا دورِحکومت میں لکھتے ہیں 'بہر حال اس سے دولتانہ صاحب اور خواجہ صاحب میں ٹھن گئی۔چنانچہ دولتانہ صاحب خواجہ صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی ترکیبیں سوچنے لگے تا کہ خود قبضہ کر سکیں۔۔۔چنانچہ دولتانہ صاحب نے اینٹی قادیانی تحریک کو غنیمت جانا اور اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کا منصوبہ بنالیا۔اس تحریک کو احرار نے جنم دیا ، علماء نے پروان چڑھایا، خواجہ ناظم الدین کے مذہبی جھکاؤ ، کاہلی، علماء سے خوف اور نا اہلی نے پھلنے پھولنے کا موقع بہم پہنچایا اور جب اس تحریک کی لگائی ہوئی آگ بھڑک اُٹھی تو دولتانہ صاحب نے اس کا رخ مرکزی حکومت کی طرف پھیر دیا حتی کہ اس آگ نے جہاں خواجہ صاحب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔وہاں دولتانہ صاحب کا سیاسی آشیاں بھی جلا کر راکھ کر دیا۔غلام محمد نے سیاسی راہنماؤں کے نفاق سے فائیدہ اٹھا کر خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا۔ہمیں کچھ کیں نہیں بھا ئیو نصیحت ہے غریبانہ : مخالفین جماعت نے پاکستان کے بعد بہت سے ممالک میں ایسی ہی طرز پر تحریکیں اٹھانے