سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 34 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 34

34 == کر رہی تھیں۔یہ کاوشیں اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوئیں اور اس ملک میں جماعت تیزی سے ترقی کرنے لگی۔(اتا۴) (۱) الفضل ۱۹مئی ۱۹۲۱ء ص ۳-۵ (۲) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء ص ۳۴ -۵۲ (۳) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء ۱۹۳۹ء ص ۸۷ - ۹۵ (۴) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۶ء۔۱۹۳۷ء ص ۴۱ ۴۴۰ ماریشس ماریشس بحیرہ ہند میں واقعہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔آبادی کی اکثریت ہندو ہے۔ملک کی تیرہ فیصد آبادی مسلمان ہے۔یہاں پر بسنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی اولاد سے ہے جو ہندوستان سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔اس مشن کے قیام کا تذکرہ کتاب کے حصہ اول میں آچکا ہے۔ماریشس میں پہلی بیعت ۱۹۱۲ء میں ہوئی تھی۔یہ خوش نصیب محترم نور محمد نور و یا صاحب تھے جو مسلمانوں کے ایک دینی جریدے کے ایڈیٹر تھے۔آپ تک احمدیت کا پیغام ریویو آف ریلجز کے ذریعہ پہنچا تھا۔۱۹۱۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے پہلا مبلغ ماریشس بھجوایا۔یہ مبلغ حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت صوفی غلام محمد صاحب تھے۔جب کام میں اضافہ ہوا تو مرکز کی طرف سے مکرم مولوی عبید اللہ صاحب کو بھی بھجوایا گیا۔آپ نے چھ سال جانفشانی سے وہاں پر فریضہ تبلیغ ادا کیا اور پھر ماریشس میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔۱۹۳۹ء میں مکرم حافظ جمال احمد صاحب یہاں پر جماعت کی طرف سے مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ماریشس میں آپ کی تقرری ۱۹۲۸ء میں فرمائی تھی۔جب آپ نے بیوی بچوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی تو حضور نے اس شرط پر اجازت مرحمت فرمائی کہ ساری زندگی ماریشس میں گزارنی ہوگی اور واپسی کی اجازت نہیں ہوگی۔آپ ایک اچھے مضمون نگار