سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 426 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 426

426 خاندان سے تھیں۔اور وہاں کے رواج کے مطابق انہیں بھی جہیز میں ایک ایسا سجانے والا چھ سات انچ کا خنجر دیا گیا تھا جس کی دونوں اطراف کند بنائی جاتی ہیں اور وہ صرف سجانے کے ہی کام آ سکتا ہے۔راقم الحروف نے وہ نام نہاد خنجر خود دیکھا ہے اور اس کی دونوں اطراف پر ہاتھ پھیر کر بھی دیکھا۔اس خنجر سے تو کوئی بینگن یا آلو بھی نہیں کاٹ سکتا کجا یہ کہ امن عامہ کا کوئی مسئلہ پیدا ہو۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو اس سے بھی عجیب و غریب الزام لگا کر گرفتار کیا گیا۔آپ کا بندوق بنانے کا کارخانہ تھا۔پاکستانی فوج آپ سے کچھ سنگینیں تیار کروانا چاہتی تھی۔جیسا کہ ایسی خریداری میں معمول کی بات ہوتی ہے ان کو نمونے کی سنگین تیار کر کے بھجوائی گئی اور ان کی طرف سے جواب بھی موصول ہوا کہ اس آرڈر کے لئے سنگینیں اس طرز پر بنائی جائیں۔اور پاکستانی فوج کی طرف سے ملنے والے خطوط بھی آرمی کے حکام کو دکھائے گئے۔لیکن حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو فوجی حکام نے اُس نمونے کی سنگین کی بنا پر گرفتار کر لیا جو خود پاکستانی فوج نے ہی تیار کروائی تھی۔گرفتار کرنے والوں نے تو ان الزامات کے تحت ان دونوں بزرگان کو گرفتار کیا تھا، فوجی عدالت اُن سے بھی بڑھ کر نکلی۔ان نام نہاد جرائم کی پاداش میں، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو ایک سال قید با مشقت اور پانچ ہزار روپیہ جرمانہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو پانچ سال قید با مشقت نیز پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ان کے ساتھ بعض اور احمدیوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ان بزرگان اور ان کے ہمراہ گرفتار شدہ احمدیوں نے اسیری کے یہ دن نہایت صبر ورضا کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے بسر کئے۔باوجود اس کے کہ مارشل لاء کے تحت سخت ترین سزائیں دی جا رہی تھیں اور کئی لوگوں کو سزائے موت بھی سنائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود یہ دونوں مقدس وجود احمدی گرفتار شدگان کو یہی تلقین کرتے رہے کہ کسی صورت میں سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا اور ہر حال میں سچی بات ہی کہنی ہے۔مگر خدا کا شکر ہے کہ دو ماہ کے بعد ان دونوں بزرگان کو رہا کر دیا گیا۔اور باقی احمدی اسیران بھی جلد رہا کر دیے گئے۔یکم اپریل کو ہی ربوہ میں ایس پی صاحب پولیس ضلع جھنگ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ قصر خلافت میں آگئے۔انہیں یہ حکم ملا تھا کہ وہ قصر خلافت کی تلاشی لیں۔انہوں نے کہا کہ وہ حضور سے ملنا چاہتے ہیں۔مگر انہوں نے شریفانہ رویہ دکھایا اور عرض کی کہ ہم تلاشی نہیں لیں گے اور