سلسلہ احمدیہ — Page 416
416 وزیروں کو گالیاں دینا، سوانگ رچانا، بھنگڑا ناچ کرنا کیا ان سب کا تعلق ختم نبوت سے ہے۔۔۔اور پھر آقائے نامدار کے ساتھ اس تحریک کو وابستہ کر کے جس طرح گالی گلوچ، بیہودہ گوئی اور شرانگیزی سے کام لے رہے ہیں، یقیناً اس سے مذہب کے نام پر بٹہ لگ رہا ہے۔(۱۰۳) مارچ کو لاہور بلوائیوں کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔سارا دن شہر میں حکومت اور احمدیوں کی املاک کو لوٹنے اور آگ لگانے کا سلسلہ جاری رہا۔دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا گیا تھا اور ایک مقام پر پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے کی ممانعت تھی مگر فساد کرنے والے اس حکم کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔حکومت کی مشینری جو پہلے بے بس بنی رہی اب حقیقت میں بے بس ہو چکی تھی۔دو ڈاک خانوں کو پہلے لوٹا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی، حکومت کی اومنی بسیں اور گاڑیاں جلا دی گئیں، بہت سے کاروباری مراکز لوٹ لئے گئے۔باغبانپورہ میں ایک احمدی مدرس منظور احمد صاحب کو شہید کر دیا گیا۔اور یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا تھا۔دیواروں پر اشتہار لگائے گئے جن میں پولیس کو کہا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دے کیونکہ یہ جہاد ہو رہا ہے۔پنجاب کی حکومت اس صورتِ حال میں اجلاسات منعقد کرنے پر ہی اکتفا کر رہی تھی۔مودودی صاحب کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے۔مگر شام تک پنجاب حکومت نے مظلوم احمدیوں کی حفاظت کے لئے تو کوئی عملی قدم نہ اٹھایا مگر بلوائیوں کی سہولت کے لئے یہ ہدایت جاری کی کہ گولی نہ چلائی جائے اور کرفیو کی معمولی خلاف ورزی پر توجہ نہ دی جائے۔پولیس کے جو اہلکار صورتِ حال کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے ان کے حوصلے بھی پست ہو گئے۔اس روز شورش کرنے والوں کی تمام توجہ صوبائی دارالحکومت پنجاب پر تھی باقی جگہوں پر نسبتاً کم واقعات ہوئے۔۵ مارچ کو پنجاب حکومت نے یہ پر اسرار بیان جاری کیا کہ حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے کہ لاہور کا نظم ونسق فوج کے حوالے کیا جائے۔(۱۰۴) بلوائیوں کے لئے یہ واضح اشارہ تھا کہ اب انہیں کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔2 مارچ کو حضرت مصلح موعودؓ کا ایک پیغام جماعت میں تقسیم کیا گیا۔اس میں حضور نے فرمایا کہ سرحد ، سندھ، بلوچستان اور بنگال میں مخالفین کی شورش نا کام ہوچکی ہے۔بنگال میں بااثر علماء بھی