سلسلہ احمدیہ — Page 413
413 رہے تھے۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے صفحہ نمبر ۱۵۶ کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس صفحہ پر اس بات کا کوئی ذکر نہیں۔البتہ صفحہ نمبر ۱۵۹ پر جو ذکر ہے وہ من و عن درج کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ میں لکھا ہے:۔شورش پسندوں نے حکام کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے جو دوسری چالیں اختیار کیں وہ حسب ذیل تھیں 1) اس مضمون کے اشتہار شائع کئے گئے کہ جھنگ اور سرگودھا میں ایک ہزار سے زائد اشخاص گولیاں مار مار کر ہلاک کر دئیے گئے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس دن ان مقامات پر ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی تھی۔۲) یہ افواہ پھیلائی گئی کہ احمدی موٹر کاروں میں سوار ہو کر اندھا دھند لوگوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔۳) مسجد وزیر خان سے یہ اعلان کیا گیا کہ سرکاری ملازموں نے ہڑتال کر دی ہے اور تحریک میں شامل ہوئے ہیں (۴) یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ ضلع کی پولیس نے گولی چلانے سے انکار کر دیا ہے اور اب صرف بارڈر پولیس اور کنسٹیبلر کی پولیس گولیاں چلا رہی ہے۔یہ بیان کہ بعض احمدی فوجی وردیاں پہنے ایک جیپ میں سوار ہو کر لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنارہے تھے۔۔ہمارے سامنے موضوع ثبوت بنایا گیا۔اور اس کی تائید میں متعدد گواہ پیش کئے گئے۔اگر چہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک پر اسرار گاڑی میں بعض نا معلوم آدمی اس دن شہر میں گھومتے رہے۔لیکن ہمارے سامنے اس امر کی کوئی شہادت نہیں کہ اس گاڑی میں احمدی سوار تھے یاوہ گاڑی کسی احمدی کی ملکیت تھی۔(۱۰۱) یہ بات واضح ہے کہ اس دن فسادات کے کرتا دھرتا جن میں مودودی صاحب کی پارٹی بھی شامل تھی جھوٹی افواہیں پھیلا کر لوگوں کو بھڑکا رہے تھے۔ایک افواہ یہ بھی پھیلائی جارہی تھی کہ احمدی فوجی وردیاں پہن کر گولیاں چلا رہے ہیں۔زیادہ سے زیادہ صرف یہ ثابت ہوا تھا کہ اس دن ایک گاڑی شہر کا چکر لگاتی رہی تھی۔اس میں احمدیوں کی موجودگی یا اس گاڑی سے اندھا دھند گولیوں کے