سلسلہ احمدیہ — Page 403
403 تیل کا کیا، کچھو کمہ، بدھو لعین ، احمق جیسے الفاظ استعمال کر رہے تھے۔(۸۰) بد قسمتی سے اُس وقت آئین سازی کا مسئلہ بھی چل رہا تھا اور پنجاب کے لیڈروں اور بنگال کے لیڈروں میں پاکستان کے دونوں حصوں میں نمائیندگی کے تناسب کے بارے میں اختلافات بھی سامنے آچکے تھے۔خود دولتانہ صاحب اور وزیر اعظم کے درمیان شدید اختلاف موجود تھا۔دولتانہ صاحب اس قسم کے بیانات دے رہے تھے کہ پنجاب ایک اکائی کا دوسرے اکائیوں پر تسلط برداشت نہیں کرے گا۔(۸۱) اس پس منظر میں پنجاب میں بنگالی وزیر اعظم کی اس طرح تذلیل مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھانے کا باعث بن رہی تھی۔بدقسمتی سے یہ سلسلہ بعد میں جاری رہا اور فاصلے بڑھتے رہے، جس کے نتیجے میں آخر کار ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ڈائرکٹ ایکشن کی دھمکی: مخالفین کی بنائی ہوئی مجلس عمل کا ایک وفد ۲۲ جنوری ۱۹۵۳ء کو وزیر اعظم سے ملا اور احمد یوں کے بارے میں اپنے مطالبات پیش کئے اور ایک مہینے کا نوٹس دیا۔وزیر اعظم نے اُن سے اظہارِ ہمدردی تو کیا لیکن کہا کہ میں مطالبات تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔اور علماء سے کہا کہ وہ ان کی مشکلات کو نہیں سمجھتے ، مسئلہ کشمیر اور دیگر بین الاقوامی تنازعات کی وجہ سے چوہدری صاحب کو ہٹانا ممکن نہیں۔علماء نے جواب میں کہا کہ اگر چوہدری صاحب کے بغیر کام نہیں چل سکتا تو احمد یوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے (۸۲)۔اس تحریک کے قائدین اب حکومت کو ڈائرکٹ ایکشن کی دھمکیاں دے رہے تھے۔جب حکومت نے گرفت کی تو اُس وقت جماعت اسلامی نے دعوی کیا کہ وہ ڈائرکٹ ایکشن کی حمایت نہیں کر رہے تھے۔اور یہ موقف تحقیقاتی عدالت میں بھی پیش کیا گیا۔لیکن عدالت میں جو شواہد پیش کئے گئے ان سے عدالت نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ جماعت اسلامی کا یہ عذر صحیح نہیں تھا۔ڈائرکٹ ایشن کی دھمکی سے فسادات کے آغاز تک جماعتِ اسلامی نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ اس دھمکی کی حمایت نہیں کرتے۔اور اس تحریک میں شامل دیگر علماء نے بھی یہی گواہی دی کہ جب ڈائرکٹ ایکشن کی قرارداد منظور کی گئی تو مودودی صاحب نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی تھی۔یہ بات اُس وقت بنائی گئی جب حکومت نے گرفت شروع کر دی (۸۴،۸۳)