سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 404 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 404

404 اس کے بعد مولویوں کے وفود نے لا ہور اور کراچی میں وزیر اعظم سے ملاقاتیں کیں۔اب وزیر اعظم پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔جیسا کہ انہوں نے بعد میں تحقیقاتی عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ اُس وقت اُنہیں برابر اطلاعات مل رہی تھیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب دولتانہ صاحب خود اس تحریک کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق انہیں بعض لوگوں نے شکایت کی کہ وہ احمدیوں کی اعانت کرتے ہیں اور دوسرے فرقے کے لوگوں کو احمدی کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب وزیر اعظم نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس شکایت پیش کرنے کو کہا تو خواجہ ناظم الدین صاحب نے اعتراف کیا کہ یہ گروہ ایسی شکایت پیش کرنے سے قاصر رہا۔(۸۵) اوپر سے احرار اور اُن کے ہمنوا مولویوں نے دھمکی دے دی کہ اگر فوراً اُن کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ ڈائرکٹ ایکشن کا قدم اُٹھائیں گے۔اب احراریوں کو اتنی جراءت ہو گئی تھی کہ وہ ہڑتال کی اپیل کرتے تھے اور اگر کوئی حصہ نہ لے تو زبر دستی دوکانیں بند کرائی جاتی تھیں۔جو دوکان بند نہ کرے اس کا منہ کالا کر دیا جاتا۔وہ لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ احمدیوں سے اچھوتوں والا سلوک کیا جائے۔دوکانوں میں ان کے برتن علیحدہ کر دئیے جائیں مجلسی مقاطعہ کیا جائے ، ان کی دوکانوں پر پکٹنگ کر دی جائے۔شورش کا لہجہ نہایت پست اور بازاری صورت اختیار کر گیا تھا۔وزیر اعظم اب دباؤ میں آکر یہ تجویز بھی پیش کر رہے تھے کہ حضرت مصلح موعودؓ کو یہ بیان جاری کرنے کو کہا جائے کہ وہ اور ان کے مقلد پاکستان کے مسلمانوں کو احمدی نہیں بنائیں گے تاکہ یہ تحریک ختم ہو جائے (۸۵) یہ تجویز سراسر ظالمانہ تھی۔احمدیوں پر ارتداد کے لئے تو ہر قسم کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا، ان کے خلاف اور اُن کے عقائد کے خلاف تو ہر قسم کا زہریلا پراپیگینڈا کیا جا رہا تھا، اُن کو اور اُن کے بزرگان کو تو گالیاں نکالی جارہی تھیں، ان کے جائز حقوق تلف کرنے کے لئے تو تحریک چلائی جارہی تھی اور ہر قسم کے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے تھے لیکن حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا تھا اور اب اگر کچھ کرنے کا خیال آیا تو یہ کہ احمدی یک طرفہ طور پر تبلیغ بند کر دیں۔جب وزیر اعظم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ صورت حال روز بروز نازک ہوتی جا رہی ہے تو ۲۶ فروری ۱۹۵۳ء کو کابینہ کا ایک اجلاس بلایا گیا جس میں پنجاب اور سرحد کے نمائیند وں کو بھی مدعو کیا گیا۔یہ معنی خیز بات تھی کہ گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب دولتانہ صاحب مدعو تھے لیکن انہوں نے