سلسلہ احمدیہ — Page 399
399 ۱۹۵۲ء مخالفین میں سے اختر علی خان صاحب نے خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی۔وہ اس ملاقات کے بعد بہت پُر امید تھے اور یہ اعلان شائع بھی کر دیا گیا کہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو وزیر اعظم علماء کی خواہش کے مطابق احمدیوں کے متعلق اعلان کریں گے۔پھر ۱۳ اگست کو مولویوں کا ایک وفد وزیر اعظم سے ملا اور مطالبات پیش کئے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ، وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو برطرف کیا جائے۔اور احمد یوں کو تمام کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔اب مخالفین کے کان وزیر اعظم کی اُس تقریر پر لگے ہوئے تھے جو یوم آزادی کو ہوئی تھی۔اپنی کامیابی کو یقینی بنانے اور حکام اور عوام کو احمد یوں سے بدظن کرنے کے لئے ۱۴ اگست 19ء سے چند روز قبل مخالفین جماعت نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ احمدی ملک میں مسلح بغاوت کی تیاری کر رہے ہیں اور ربوہ میں خوفناک اسلحہ اس بڑی تعداد میں جمع کر لیا گیا ہے کہ شاید حکومت کے لئے بھی اُس کا مقابلہ کرنا دشوار ہو (۷۲)۔جیسا کہ بعد میں حالات نے ظاہر کیا، حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ خود ملک میں بغاوت کرنے کی تیاری کر رہے تھے اور شکوک کا رخ پھیر نے کے لئے جماعت احمدیہ پر بغاوت کا الزام لگا رہے تھے۔جب یہ تقریر شروع ہوئی تو اُن کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔اس میں مولویوں کے مطالبات منظور کرنے کا ذکر تک نہ تھا۔اس کی بجائے اُنہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے نام پر لاقانونیت کو ہوا دینے والے اور اخباروں کے ذریعہ جھوٹی خبریں پھیلانے والے قوم و ملک کے دشمن ہیں۔میں ایسے لوگوں کو کہوں گا لا تفسدوا فی الارض کی آیت یادرکھو اور جولانی طبع کی خاطر پاکستان کو خطرے میں نہ ڈالو۔اگر قائد اعظم کے ذریعہ قائم ہونے والے اتحاد کی رسی ہاتھوں سے چھوٹ گئی تو پھر پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہے۔(۷۳) تاہم اسی روز مرکزی حکومت کی طرف سے یہ پُر اسرار ران شائع کیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی یا مرکزی وزارتوں کا کوئی رکن اُن اشخاص میں جن کے ساتھ اس کا واسطہ پڑتا ہے کسی فرقہ وار عقیدے کی تبلیغ کے لئے اپنی سرکاری پوزیشن کو استعمال نہیں کرے گا۔اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اُس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔گو یہ اعلان عمومی نوعیت کا تھا مگر سمجھا جا رہا تھا کہ اس کا روئے سخن حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور دیگر احمدیوں کی طرف ہے اس لئے حضرت چوہدری