سلسلہ احمدیہ — Page 378
378 حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنی خدمات کی وجہ سے عالم اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔اس لئے اس ٹولے کی دل آزاری اور الزامات کا سب سے زیادہ نشانہ بھی چوہدری صاحب ہی بنے۔احرار بر ملا کہہ رہے تھے کہ چوہدری ظفر اللہ خان غدار ہے اور اسے فوری طور پر برطرف کرنا چاہئیے۔صرف اس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔چوہدری صاحب کے استعفے کو نصف صدی سے زاید عرصہ گذر چکا ہے۔کشمیر کا مسئلہ حل ہونا تو درکنار، آپ کے بعد اس مسئلے پر ایک انچ کی پیش رفت بھی نہیں ہوئی۔جو پیش رفت ہوئی آپ کے دور وزارت میں ہوئی۔) یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ احمدیوں کو تمام کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔احرار اپنے جلسوں میں احمدیوں کے بزرگوں کو نخش گالیاں نکال رہے تھے۔لیکن حکومت پنجاب نے اس عذر کی بناء پر کوئی کاروائی نہیں کی کہ اس طرح احرار کو اور مقبولیت حاصل ہو جائے گی۔احمدیوں کو قتل کرنے کی تحریک: لیکن یہ سب کافی نہیں تھا۔ابھی ان مخالفین کا صحیح چہرہ ظاہر ہونا باقی تھا۔اب اُن کی حکمت عملی ی تھی کہ لوگوں کو احمدیوں کی قتل و غارت پر اکسایا جائے۔چنانچہ ان لوگوں نے ایک پرانا کتابچہ شائع کرایا جو مسلم لیگ کے ایک مولوی شبیر احمد عثمانی صاحب کا لکھا ہوا تھا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور احمدی مرتد ہیں اس لئے احمدی واجب القتل ہیں۔احراری اپنے جلسوں میں اس کا حوالہ بکثرت دینے لگے۔اور اپریل ۱۹۵۰ء میں راولپنڈی میں ہونے والے جلسے میں ہر مقرر نے اپیل کی کہ لوگ یہ کتابچہ ضرور پڑھیں۔اشتعال دلانے کیلئے ان کے جلسوں میں یہ اعلان بھی کئے جاتے کہ جو لوگ احمدیوں کو قتل کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑے کریں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے جلسوں میں لوگ کھڑے ہو کر اپنے آپ کو پیش کرنے لگے کہ وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو قتل کرنے کو تیار ہیں۔عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے بارہا اپنے جلسوں میں کھڑے ہو کر کہا کہ اگر بانی سلسلہ احمد یہ اُن کی زندگی میں دعوی کرتے تو وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتے۔اس نفرت انگیز مہم کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب کے مختلف مقامات پر معصوم اور بے قصور احمدیوں کو شہید کرنے کا سلسلسہ شروع ہو