سلسلہ احمدیہ — Page 379
379 گیا۔احراریوں کی سازشوں کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔(۳۱) دوسری جنگِ عظیم کے آغاز پر جب احرار نے کانگرس کے ساتھ مل کر فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرے شروع کئے تو انگریز حکومت نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا اور سخت رویہ اپنالیا۔جب احراریوں نے حکومت کے یہ تیور دیکھے تو بہت سے احراریوں نے اپنی روایتی لال قمیصیں جلانی شروع کر دیں اور حکومت سے معافی مانگی کہ ہم آئندہ ایسی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے۔اور تو اور جب عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سرکاری رپورٹ بالکل غلط ہے۔میں تو عدم تشدد پر قائم رہنے کا عہد کر چکا ہوں اور کسی متشدد جماعت سے تعلق نہیں رکھتا۔(۳۳۳۲) جو شخص انگریز حکومت کے سامنے عدم تشدد کا پرچار کر رہا تھا ، آج معصوم احمدیوں کے قتل وغارت پر لوگوں کو اکسا رہا تھا۔وقت کے ساتھ یہ بات بھی ظاہر ہوتی جارہی تھی کہ یہ ہم صرف احراری نہیں چلا رہے۔کچھ اور ہاتھ بھی اُن کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔گورنمنٹ کی مشینری کا ایک حصہ اس وسیع سازش میں شامل تھا۔کئی حکومتی کارندے جب احراریوں کے جلسوں کی رپورٹ دیتے تو اس میں احراریوں کی طرف سے دی جانے والی قتل کی دھمکیاں اور دیگر خلاف قانون حرکات کا ذکر حذف کر دیا جاتا۔اور جب حضرت مصلح موعود کی تقریروں کی رپورٹیں بھجوائی جاتیں تو اُس میں خلاف واقعہ باتیں شامل کردی جاتیں۔ان حرکات کا مقصد یہی تھا کہ حکومتی عہد یدار مکمل طور پر جماعت احمدیہ کے خلاف ہو جائیں اور جب یہ ٹولہ جماعت کے خلاف ایک آخری ضرب لگائے تو کوئی اُن کی راہ میں حائل نہ ہو۔مگر بعض شریف افسران ایسے بھی تھے جنہوں نے جراءت کر کے اس تضاد کی نشاندہی کرنی شروع کر دی۔حضور نے ۲۳ جون ۱۹۵۰ء کے خطبے میں ان امور کا ذکر فرمانے کے بعد جماعت کو دعاؤں اور زیادہ تندہی سے تبلیغ کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور نے تقسیم ہند کے پُر آشوب دور کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا اس واقعہ کے بعد ہمیں سمجھ لینا چاہیئے تھا کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم صاحبزادوں کی طرح اپنی زندگیاں گزار دیں گے۔اور گذشتہ نبیوں کی جماعتوں کے سے حالات میں سے نہیں گزریں گے محض ایک دھوکہ ہے۔مگر یہ نہایت ہی حیرت انگیز اور قابلِ افسوس بات ہے کہ میں اب بھی دیکھتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ ہم میں اب یہ احساس پیدا ہو جاتا کہ