سلسلہ احمدیہ — Page 374
374 خود داری کا مادہ بالکل نہیں ہے اور آج یہ لوگ صرف اس لئے مسلم لیگ میں شامل نہیں ہو رہے تھے کہ اس میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جیسے عقائد رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔اور کوئی مسئلہ نہیں۔احرار نے جنوری ۱۹۴۹ء میں لاہور کے مقام پر اپنی کا نفرنس منعقد کی اور اعلان کیا کہ اب مجلس احرار کی سیاسی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔اب نہ صرف اس بات پر آمادگی ظاہر کی جا رہی تھی کہ سیاسی محاذ پر احراری مسلم لیگ کی پیروی کریں گے بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ آزادی سے پہلے بھی احرار اور مسلم لیگ کے درمیان کوئی خاص اختلافات موجود نہیں تھے۔اس موقع پر عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے کہا مسلم لیگ سے ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ ملک کا نقشہ کس طرح بنے۔یہ نہیں کہ ملک نہ بنے بلکہ یہ کہ اس کا نقشہ کیونکر ہو۔۔یہ کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا، نہ حلال حرام کا، نہ گناہ و ثواب کا ، اور نہ مذہب کا ، وہ تو ایک نظریے کا اختلاف تھا۔۔۔۔پس اب ہمارا مسلم لیگ سے کوئی اختلاف نہیں ، نہ پہلے ہمارے اور اُن کے درمیان مذہبی اختلاف تھا نہ خدا نہ رسول کا ، نہ ہم ولی ہیں نہ لیگ والے قطب۔(۲۳) اس بیان کا سابقہ بیانات سے موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ احرار اصول پسندی کے مفہوم سے نا آشنا تھے۔وہ سفید جھوٹ بول کر مستقبل کی چالوں کی راہ ہموار کر رہے تھے۔ان کے پیروکاروں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی تھی جو زیادہ علم نہیں رکھتے اور نہ ہی تحقیق کر کے حقیقت کو جان سکتے ہیں۔اب احرار مسلم لیگ کے خلاف تو کچھ کر نہیں سکتے تھے لیکن انہیں ایک ایسشو درکار تھا جس کے چور دروازے کو استعمال کر کے وہ ایک بار پھر لوگوں کی نظر میں آسکیں۔چنانچہ انہوں نے ایک بار پھر احمدیت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا اور اسی جلسے میں بخاری صاحب نے کہا دمجلس احرار اب مذہبی اور اصلاحی کاموں میں سرگرم رہے گی۔مسئلہ ختم نبوت اس کا بنیادی مسئلہ ہے۔سیاسیات اب ہماری منزل نہیں ، وہ جانے اور مسلم لیگ۔(۲۴) اس کے ساتھ احرار نے جماعت کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا۔جیسا کہ ہم بعد میں وضاحت کریں گے احرار گوشہ گمنامی سے خود باہر نہیں آرہے تھے بلکہ کچھ ہاتھ اپنے مقاصد کے لئے انہیں