سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 366 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 366

366 اس (آگ) نے اس کے ماحول کو روشن کر دیا۔اللہ ان ( بھڑ کانے والوں ) کا نور لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے تھے۔(البقرۃ ۱۸) آزادی کے بعد یہی احرار ایک بار پھر جماعت کے خلاف آگ بھڑ کانے کا محرک بنے۔ان کے کردار اور طریقہ واردات کا تجزیہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بعد میں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف جتنی بھی تحریکیں اٹھیں ، وہ کسی حد تک ۱۹۵۳ء کی شورش کا رنگ لئے ہوئے تھیں۔گو وقت کے ساتھ انداز میں کچھ نہ کچھ تبدیلی تو آتی رہی مگر تمام مخالفین بنیادی امور میں اُنہی کی پیروی کرتے رہے۔اس لئے اگر ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کر لیا جائے تو اکثر مخالفین کی نفسیات اور اُن کے کردار کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر ۱۹۵۳ء کے فسادات کے محرکات کو سمجھ لیا جائے اور یہ جائزہ لیا جائے کہ اس شرارت نے کس طرح سر اٹھانا شروع کیا اور کس طرح حکومت نے اپنے مقاصد کے لئے اس فتنہ کو بھڑ کا یا اور بالآخر کس طرح یہ فتنہ خود حکومت اور ملک کے امن وامان کو برباد کرنے کا باعث بنا تو اس کے بعد جماعت کی مخالفت کی تاریخ کو سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔مولویوں اور مسلم لیگ کا تنازع: مجلس احرار نے جماعت کے خلاف اپنی ناکامی کی خفت تو اٹھائی ہی تھی لیکن اس کے بعد انہیں ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں یہ دوسری نا کامی سیاست کے میدان میں اٹھانی پڑی۔آزادی سے معاً قبل مسلمانوں کی اکثریت تو مسلم لیگ کا ساتھ دے رہی تھی لیکن علماء کی اکثر تنظیمیں کانگرس کے ساتھ تھیں۔مجلس احرار اور جمیعتہ العلماء جیسی جماعتیں نہ صرف کانگرس کے ساتھ تھیں بلکہ انہیں مسلم لیگ کے ساتھ سخت بغض تھا۔پرتاب جیسے کانگرس کے حامی اخبارات ان کے ایسے بیانات بہت نمایاں کر کے چھاپتے تھے کہ مسلم لیگ ایک رجعت پسند جماعت ہے جو ملک وقوم کی ترقی کی راہ میں بھاری رکاوٹ ہے۔(۴) احمدیت کی مخالفت کی طرح اس سوقیانہ بیان بازی میں احراریوں کے لیڈر اور ان کے امیر شریعت ، عطاء اللہ شاہ بخاری سب سے نمایاں تھے۔۱۹۳۹ء کے سال میں جب ہندوستان کے