سلسلہ احمدیہ — Page 27
27 کے کام سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا رفتہ رفتہ آپ کی بزرگی کی شہرت پورے علاقے میں پھیل گئی۔گوبر ( Gobir) کے بادشاہ مسلمان تھے لیکن آپ کی تبلیغی مہم سے خوفزدہ تھے۔انہوں نے یہ پابندی لگا دی کہ حضرت عثمان فود یو کے علاوہ کوئی تبلیغ نہیں کرسکتا اور کسی کو اپنے آبائی مذہب کو تبدیل کر نیکی اجازت نہیں ہو گی۔اور پگڑی اور نقاب پر بھی پابندی لگا دی۔اس پر آپ کے گروہ اور مقامی بادشاہوں میں اختلافات شدید ہو گئے اور پھر بادشاہوں نے حملہ کر کے مسلمانوں کو غلام بنایا تو آپ کے پیروکاروں نے حملہ کر کے انہیں رہا کرا لیا اور اس کے ساتھ حکومت پر اُن کا قبضہ شروع ہو گیا۔آپ کی حکومت پھیلتے پھیلتے نائیجیریا کے شمال اور نائیجر اور کیمرون کے ملحقہ علاقوں تک پھیل گئی۔سلطنت کے قیام کے کچھ عرصہ کے بعد آپ نے عملی طور پر اپنے آپ کو امور سلطنت علیحدہ کر لیا اور ایک بار پھر تعلیم وتربیت میں مشغول ہو گئے۔بہت سے لوگوں نے آپ کی بزرگی سے متاثر ہو کر آپ کو مہدی کہنا شروع کر دیا۔مگر آپ نے اس کی تردید فرمائی اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کو خوشخبری دی کہ اب مہدی کا ظہور قریب ہے (۸)۔چنانچہ ۱۸۱۷ء میں آپ کا وصال ہوا اور ۱۸۳۵ء میں حضرت مسیح موعود کی پیدائش ہوئی۔اس طرح آپ کا زمانہ اور مہدی آخر الزمان کا زمانہ آپس میں ملا ہوا ہے۔پھر نائیجیریا میں انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی اور پادریوں کو یہاں پر عیسائیت پھیلانے کے مواقع ملے۔بہت سے لوگوں کا خام خیال تھا کہ اب یہاں پر اسلام کا زوال شروع ہو جائے گا۔مگر David Westerlund اور Ingvar Svanberg جیسے مغربی مصنفین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ خیالات غلط ثابت ہوئے اور انگریزوں کی حکومت میں اسلام پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتا رہا۔باوجود غلامی کے اسلام کی حقانیت لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی رہی۔(۲۱) نائیجیریا میں سب سے پہلی جماعت دارالحکومت لیگوس میں قائم ہوئی تھی۔ابتداء میں یہاں پر ریویو آف ریلجز کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچا۔اور قادیان سے خط و کتابت کرنے کے بعد ۱۹۱۶ء میں بعض افراد نے بیعت کے خطوط لکھے۔پھر ۱۹۲۱ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب بطور مبلغ یہاں آئے۔اس وقت نائیجیریا کے علاوہ گولڈ کوسٹ ( غانا) کا علاقہ بھی ان کے سپرد تھا۔۔حضرت نیر صاحب کو قریباً ڈیڑھ سال یہاں رہ کر جماعت کی تربیت کا موقع ملا۔اس کے بعد