سلسلہ احمدیہ — Page 359
359 قوموں کو چاہیے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر باوجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشتر کہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے سب قومیں مل کر لڑو یہاں تک کہ خدا کے حکم کی طرف وہ لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرا دو مگر انصاف اور عدل اور مروت سے کام لو۔اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس آیت میں بین الاقوامی صلح کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل لطیف گر بتائے گئے ہیں۔سب سے اول جب دو قوموں میں لڑائی اور فساد کے آثار ہوں معاً دوسری قومیں بجائے ایک یا دوسری کی طرف داری کرنے کے ان دونوں کو نوٹس دیں کہ وہ قوموں کی پنچایت سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔اگر وہ منظور کر لیں تو جھگڑا مٹ جائے گا۔لیکن اگر ان میں سے ایک نہ مانے اور لڑائی پر تیار ہو جائے تو دوسرا قدم یہ اٹھایا جائے کہ باقی سب اقوام اس کے ساتھ مل کر لڑیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ سب اقوام کا مقابلہ ایک قوم نہیں کر سکتی ضرور ہے کہ جلد اس کو ہوش آ جائے اور وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔پس جب وہ صلح کے لئے تیار ہو تو تیسرا قدم یہ اُٹھائیں کہ ان دونوں قوموں میں جن کے جھگڑے کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی صلح کرا د ہیں۔یعنی اس وقت اپنے آپ کو فریق مخالف بنا کر خود اس سے معاہدات کرنے نہ بیٹھیں بلکہ اپنے معاہدات جو پہلے تھے وہی رہنے دیں۔صرف اسی پہلے جھگڑے کا فیصلہ کریں جس کے سبب سے جنگ ہوئی تھی اس جنگ کی وجہ سے نئے مطالبات قائم کر کے ہمیشہ کے فساد کی بنیاد نہ ڈالیں۔چوتھے یہ امر مد نظر رکھیں کہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو یہ نہ ہو چونکہ ایک فریق مخالفت کر چکا ہے اس لئے اس کے خلاف فیصلہ کر دو بلکہ باوجود جنگ کے اپنے آپ کو ثالثوں کی ہی صف میں رکھو فریق مخالف نہ بن جاؤ۔ان امور کو مد نظر رکھ کر اگر کوئی انجمن بنائی جائے تو دیکھو کہ کس طرح دنیا میں بین الاقوامی صلح ہو جاتی ہے۔۔اب رہا یہ سوال کہ جو اخراجات جنگ پر ہوں گے وہ کس طرح برداشت کئے جاویں؟