سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 358 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 358

358 اقوام متحدہ کے مستقبل کے متعلق حضور کا ارشاد بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو پوری دنیا میں اس بات کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ کوئی ایسی تنظیم ہو جس میں دنیا کے تمام ممالک شامل ہوں۔اور یہ تنظیم دنیا میں امن قائم کرے اور جب مختلف ممالک میں اختلافات پیدا ہوں تو یہ تنظیم ان میں صلح کرائے اور اس طرح اس کے ذریعہ دنیا کو خوفناک جنگوں کی تباہ کاری سے بچایا جائے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی۔یہ تنظیم نا کام ہوئی تو دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور جب دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں ختم ہوئیں تو اقوام متحدہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ہم جس دور کا ذکر کر رہے ہیں اس وقت اقوام متحدہ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور اس سے بہت سی توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں۔یہ جائزہ لینے سے پہلے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اقوام متحدہ کے مستقبل کے متعلق کیا ارشاد فرمایا تھے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب لیگ آف نیشنز قائم کی گئی تھی تو اس وقت حضور نے اس کی کامیابی کے امکانات کے متعلق کیا فرمایا تھا۔جب پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو 1919ء میں لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے لیے لندن تشریف لے گئے اور اس کا نفرنس کے لیے جو مضمون آپ نے تحریر فرمایا اس میں آپ مختلف اقوام کے درمیان جھگڑے مٹانے کے متعلق تحریر فرماتے ہیں د جھگڑوں کو مٹانے کے لیے ایک عجیب حکم دیا ہے جسے آج ہم لیگ آف نیشنز کی شکل میں دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک یہ لیگ ویسی مکمل نہیں ہوئی جس حد تک اسلام اس کو لے جانا چاہتا ہے اسلام یہ حکم دیتا ہے وَاِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا ج فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدُهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِى حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات:١٠) یعنی اگر دو قو میں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو۔یعنی دوسری