سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 353 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 353

353 ہوگئی۔اور ان علاقوں میں اپنی پوزیشن سنبھالنی شروع کر دی جن پر آزاد فوج اور قبائلی لشکروں نے قبضہ کیا تھا۔جس طرح ہر ملک میں رہنے والا احمدی اپنے ملک کا وفادار ہوتا ہے، پاکستان میں بسنے والے احمدی پاکستان کے وفادار شہری تھے۔اور اس موقع پر جب مختلف رضا کا ر اس جنگ میں حصہ لے رہے تھے، احمدی رضا کاروں نے بھی اپنے ملک کی عسکری خدمات سرانجام دیں۔یہ سلسلہ ضلع سیالکوٹ سے شروع ہوا۔بھمبر میں متعیین ڈوگرہ فوج نے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ان کے دستے سیالکوٹ اور گجرات کے دیہات پر حملے کر کے لوٹ مار کرتے اور فوراً کشمیر کے علاقے میں واپس چلے جاتے۔یہ حملے وقت کے ساتھ بڑھتے رہے اور دسمبر ۱۹۴۷ء میں ان کی وجہ سے ایک تشویش ناک صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ان اضلاع میں کشمیر سے آئے ہوئے بہت سے مہاجرین بھی پناہ گزین تھے۔پاکستانی فوج ابھی اتنی وسیع سرحد سنبھالنے کے قابل نہیں تھی۔جموں سے آئے ہوئے کچھ مہاجرین نے سرحد کی نگہبانی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور پھر کچھ قبائلی بھی ان کے ساتھ مل گئے اور یہ مشترکہ فورس برق فورس کہلانے لگی۔ضلع سیالکوٹ میں بہت سے احمدی دیہات کو بھی ان خطرات سے گذرنا پڑ رہا تھا اور ان کی حفاظت کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت تھی۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی قیادت میں چالیس احمدی رضا کاروں کا ایک دستہ ،سیالکوٹ اور جموں کی سرحد پر واقع گاؤں معراجکے بھجوایا گیا۔اس دستے نے وہاں پر پاکستانی علاقے کی حفاظت کے فرائض سرانجام دیئے اور دو احمد یوں نے وہاں پر جامِ شہادت نوش کیا۔ابھی یہ دستہ معراجکے میں مصروف خدمت تھا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے منشا ظاہر ہونے پر احمدی رضا کاروں کی ایک بٹالین تشکیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو کشمیر میں خدمات سرانجام دے سکے۔اس کے لئے حضور کی تحریک پر رضا کاروں نے اپنے آپ کو عسکری خدمات کے لئے پیش کیا۔یہ لوگ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔سب سے پہلا مرحلہ ان کی ٹریننگ کا تھا۔ان کے لئے سرائے عالمگیر کے قریب ایک گاؤں سوہن میں کیمپ لگایا گیا۔معراجکے کے رضا کار بھی اس کیمپ میں شامل ہو گئے۔ایک مہینہ ان افراد کی عسکری تربیت کی گئی۔کم وقت کے پیش نظر یہ ٹریننگ رات کے اوقات میں بھی جاری رہتی۔اس مختصر ٹریننگ کے بعد جولائی ۱۹۴۸ء میں اس بٹالین کو محاذ جنگ بھجوا دیا گیا۔اور اسے برگیڈیئر کے ایم