سلسلہ احمدیہ — Page 347
347 اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا اختیار ملے۔۲۸ جنوری کو جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر ختم ہوئی تو کاروائی ختم ہونے سے قبل برطانیہ کے وزیر نوئل بیکر اظہارِ رائے کے لیے کھڑے ہوئے۔ان کی رائے ایک خاص اہمیت رکھتی تھی۔انہوں نے بڑے نپے تلے انداز میں اس بات کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کو پہلے کشمیر میں رائے شماری کے متعلق فیصلہ کرنا چاہیے تا کہ کشمیر کے عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔کیونکہ قوت کے ذریعہ اس جنگ کو ختم نہیں کیا جاسکتا جو اس وقت کشمیر میں جاری ہے۔اگر اہلِ کشمیر کو یقین ہو جائے کہ انہیں جمہوری طریق پر اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا تو جنگ کی کیفیت خود ہی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔اور یہ رائے شماری اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مکمل غیر جانبداری سے کرائی جائے۔اب اس بات کے امکان ختم ہوتے جارہے تھے کہ سلامتی کونسل کا فیصلہ بھارت کی حکومت کی امیدوں اور خواہش کے مطابق ہوگا۔اگلے روز ۲۹ جولائی کو جب کاروائی شروع ہوئی تو صدر کونسل بلجیئم کے مندوب نے دو قرار دادیں پیش کیں۔ایک میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے تحت مکمل غیر جانبدار رائے شماری کرائی جائے۔اور دوسری قرار داد یہ تھی کہ سلامتی کونسل کے قائم کردہ کمیشن کا فرض ہوگا کہ وہ کشمیر میں جنگ کی حالت کو ختم کرنے کے لیے کاوشیں کرے۔اس کے بعد امریکہ، کینیڈا، چین، فرانس، شام اور برطانیہ کے مندوبین نے مختصر تقاریر کیں اور سب نے ان قرار دادوں کی حمایت کی۔اب صورتِ حال بالکل بھارتی حکومت کی خواہش کے برعکس رخ اختیار کر رہی تھی۔بھارت کی حکومت اس لیے اس معاملہ کو سلامتی کونسل میں لے کر گئی تھی کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں جارحیت کی ہے۔اس لیے پاکستان کو جارح قرار دے کر مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستان کی طرف سے کشمیر میں داخل ہونے والے قبائلیوں کو کشمیر سے نکالے۔لیکن اب یہ قرار داد پیش کی جارہی تھی کہ اقوام متحدہ خود کشمیر میں رائے شماری کرائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اور اقوام متحدہ کا مقرر کردہ کمیشن کشمیر میں جنگ کی حالت ختم کرانے کی کوشش کرے گا۔اور اب تمام ممالک کے نمائندے ایک ایک کر کے اس قرارداد کی حمایت کر رہے تھے۔اب یہ صورتِ حال بھارتی مندوب آئینگر کے لیے نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔اب وہ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔اور کہا کہ یہ