سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 344 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 344

344 کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری صاحب نے عمداً حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ہے اور وہ یہ بات بار بار دہراتے رہے ،جس سے یہ تقریر ذاتی حملوں سے بھر پور ایک شاہکار کی صورت اختیار کر گئی۔چوہدری صاحب نے مغربی پنجاب میں مسلمانوں کے گھروں کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا بھی ایک گھر تھا۔اب میرا وہ گھر نہیں رہا ( یعنی قادیان میں چوہدری صاحب کی کوٹھی )۔مسٹر سٹیلواڈ نے طنزاً کہا کہ پاکستان کے مندوب نے بڑا نقشہ کھینچا ہے کہ کبھی میرا ایک گھر تھا اب وہ نہیں رہا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا گھر سلامت ہے اور گو اس کا کچھ سامان لوٹا گیا تھا لیکن اکثر سامان محافظت لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔(جیسا کہ چوہدری صاحب نے جواب میں فرمایا کہ حقیقت یہ تھی کہ خود فوج اور پولیس نے کئی روز تفصیل کے ساتھ لوٹا تھا)۔مسٹرسٹیلواڈ نے کہا کہ صرف انہی کا نقصان نہیں ہوا بلکہ ہمارے وفد کے اراکین کا بھی نقصان ہوا ہے۔اس کے علاوہ مسٹر سٹیلواڈ نے قادیان کا ذکر بھی بڑی برہمی سے کرتے ہوئے کہا کہ کہ انہوں نے اپنے قصبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیان میں ۱۳۰۰۰ مسلمان تھے اور اب صرف دوسوتین سولوگ اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں۔اس کے جواب میں مسٹر سٹیلواڈ نے کہا کہ قادیان کا نقصان اس نقصان کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا جو مغربی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کو اٹھانا پڑا ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ انہیں بہت سی تفصیلات کا علم بھی نہیں تھا اور چوہدری صاحب کے بیان کے بہت سے حصے ان کے لئے حیران کن اور نا قابل یقین تھے۔لیکن اس دباؤ نے ہندوستانی وفد کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اس بات کو غیر مبہم انداز میں دہرائیں کہ کشمیر کا الحاق مستقل تب ہی ہو گا جب وہاں کی اکثریت اس کے حق میں اظہارِ رائے کرے گی۔جب اگلے روز حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو بہت سے اراکین کا خیال تھا کہ اب درشت کلامی کا جواب درشت کلامی سے دیا جائے گا۔چوہدری صاحب نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ میرے فاضل دوست جنہوں نے کل بھارت کی طرف سے سلامتی کونسل میں تقریر کی تھی، ایک بہت قابل وکیل ہیں اور میرے نزدیک وہ ہندوستان میں وکالت کرنے والوں میں قابل ترین وکیل ہیں۔میں ہمیشہ سے انہیں نہ صرف ایک قابل بلکہ ایک انصاف پسند وکیل بھی سمجھتا