سلسلہ احمدیہ — Page 334
334 دی۔جس کے نتیجے میں ڈوگرہ فوج کوئی خاص مزاحمت نہ کر سکی۔اور قبائلی حملہ آور تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔اور جب قبائلی دستے دو میل اور مظفر آباد سے آگے نکلے تو ان شہروں سے شعلے بلند ہو رہے تھے۔آزاد کشمیر کی عبوری حکومت نے الزام لگایا کہ مہاراجہ کی فوج کی فورتھ ڈوگرہ رائفل نے پسپا ہوتے ہوئے آگ لگائی تھی اور ہندوستان نے الزام لگایا کہ یہ آگ قبائلی حملہ آوروں نے لگائی تھی۔وجہ کچھ بھی ہو اب اس علاقے کے عوام کو نئے مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔(۲۱) بہت سے مقامات پر مسلمانوں اور ھندوؤں کو بھی مختلف گروہوں کی طرف سے لوٹ مار قبل و غارت اور انسانیت سوز مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔اس وقت تک گل کار صاحب تو گرفتار ہو چکے تھے۔پونچھ میں پلندری کے مقام پر کشمیر کی عبوری حکومت کی تشکیل نو کا اعلان کیا گیا۔اور سردار ابراہیم جو گذشتہ اعلان میں وزیر اعظم تھے ، نئے صدر مقرر ہوئے۔سردار ابراہیم نے اعلان کیا کہ اب سے اس حکومت کا صدر مقام پلندری ہو گا۔اب کشمیر کا بہت سا حصہ اس عبوری حکومت کے قبضے میں آچکا تھا (۲۲) دوسری طرف ۲۵ اکتوبر کو قبائلی حملہ آور وادی جہلم میں آگے بڑھتے ہوئے اُوڑی کے مقام تک جا پہنچے۔مہاراجہ اپنے محل میں دسہرہ کی تقریبات منا رہے تھے کہ یکلخت بجلی کی رو منقطع ہو گئی۔جلد انکشاف ہوا کہ قبائلی فوجیوں نے اُس بجلی گھر پر حملہ کر دیا ہے۔یہ خبر مہاراجہ کے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھی۔بجائے دارالحکومت سری نگر میں رہ کر دفاع کرنے کے مہاراجہ کشمیر اور ان کے وزیر اعظم مہاجن صاحب سری نگر سے عجلت میں فرار ہو کر جموں چلے گئے ، جو ہندو اکثریت کا علاقہ تھا۔اب مہا راجہ کوجلد فیصلہ کرنا تھا۔اس پس منظر میں بھارتی سیاستدان وی پی مین مذاکرات کے لئے کشمیر پہنچے۔انہوں نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اور ایمر جنسی حکومت قائم کر کے شیخ عبداللہ کو وزیر اعظم کا معاون مقرر کیا گیا۔ہندوستان نے یہ الحاق قبول کرتے ہوئے کشمیر میں فوجیں اُتارنی شروع کر دیں۔اگلے چار پانچ روز میں ۵۰ ڈکوٹا جہازوں کے ذریعہ ۶ بٹالین فوج کشمیر بھجوائی گئی اور اس کے ساتھ پٹھانکوٹ سے مزید فوج جموں کے لئے روانہ کی گئی (۲۳)۔ہندوستان کے گورنر جنرل نے الحاق کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے لکھا کہ بعد میں ان کی حکومت کی پالیسی کے مطابق کشمیر کے مستقبل کے متعلق وہاں کے عوام کی مرضی معلوم کی جائے گی اور اس