سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 331 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 331

331 کہ وہ تن تنہا جا کر مہا راجہ کوگرفتار کر لیں گے جیسا کہ بزاز صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔اُس وقت کشمیری لیڈر دو گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ضرورت اس بات کی تھی کہ کشمیری اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔اور جمہوری طرز پر کشمیری عوام کی رائے معلوم کی جائے۔مہاراجہ اور ہندوستان کی حکومت اپنے مقاصد کے لئے شیخ عبداللہ صاحب پر انحصار کر رہے تھے۔گل کار صاحب کے شیخ عبداللہ صاحب سے قریبی تعلقات تھے۔شیخ عبداللہ صاحب کے دور حکومت میں گل کار صاحب کو قید تو رکھا گیا لیکن وہ گل کار صاحب سے بہت زیادہ متاثر بھی تھے۔یہاں تک کہ برسوں بعد جب اُنہوں نے اپنی سوانح حیات آتشِ چنار تحریر کی تو اس میں گل کار صاحب کے متعلق تحریر کیا۔خواجہ غلام نبی گلکار کی علیحدگی تو ذاتی طور پر میرے لئے بے حد تکلیف دہ ثابت ہوئی۔وہ میرے ہم سن تھے اور میرے اولین رفیقوں میں سے ایک۔پڑھے لکھے بھی تھے لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ بڑے با ہمت حوصلہ مند اور جری تھے۔تھے تو بڑے پر خلوص لیکن قادیانی عقیدے کی وجہ سے سیاسی مسائل پر ان کی ہی رہنمائی قبول کرتے تھے ان کو قوم کی زبوں حالی کا بڑا ہی احساس تھا۔ان کا زرخیز دماغ لمبی چوڑی اور دور دراز کا رسکیموں کا تانا بانا بنتا رہتا تھا۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ ان کا جسد خا کی لحد میں بھی مادر کشمیر کے آنچل میں پہونچنے کے لئے بے قرار ہوگا۔(۱۴) گل کار صاحب کی شیخ صاحب سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور وقتی طور پر شیخ صاحب اس بات پر آمادہ بھی ہو گئے تھے کہ وہ قائد اعظم سے ملاقات کریں گے۔اگر اُس وقت کشمیری لیڈر آپس میں متحد ہو جاتے تو اُن کی قوم کو ان المیوں کا شکار نہ ہونا پڑتا جن سے وہ گذشتہ پچاس برسوں سے نشانہ بن رہے ہیں۔وہ وقت یہ سوچنے کا نہیں تھا کہ مجھے کیا خطرہ ہے۔وہ وقت سب کچھ قربان کر کے قوم کو بچانے کا تھا۔اور گل کار صاحب نے یہ قربانی دی۔اگر سب لیڈر اسی جذبے سے اپنے مفادات کی قربانی پیش کرتے تو آج کشمیر کا یہ حال نہ ہوتا۔ریاستوں کے مسئلے پر حضرت مصلح موعود کا بیان: ۱۵ اکتوبر کو مہاراجہ نے مہر چند مہا جن صاحب کو کشمیر کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔یہ وہی مہر چند