سلسلہ احمدیہ — Page 329
329 تشکیل دیں گے۔(۲) حضرت مصلح موعودؓ بہت سے مواقع پر کشمیر کے بے کس اور مظلوم مسلمانوں کی راہنمائی اور مددفرما چکے تھے۔اس نازک موڑ پر بھی آپ نے ان کی مددفرمائی۔پاکستان میں کشمیری لیڈروں کی ایک میٹنگ بلائی گئی، جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ایک عبوری حکومت قائم کی جائے۔تاکہ کشمیر کے مسلمانوں کو مہاراجہ کے مظالم سے نجات دلانے کی کوئی صورت بنے۔جیسا کہ بعد میں ذکر آئے گا کہ ابتداء میں اس عبوری حکومت کے صدر نے ایک نہایت اہم اور خطرناک فریضہ سر انجام دینا تھا۔اس لئے اس منصب کو قبول کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔سب سے پہلے مفتی ضیاء الدین صاحب کو صدارت سنبھالنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے معذرت کر لی ، پھر محمد عبد اللہ قادری صاحب کو صدر بنانے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے بھی اس کی حامی نہیں بھری۔بالآخر ایک احمدی لیڈر غلام نبی گل کار صاحب یہ فریضہ ادا کرنے پر آمادہ ہوئے۔اور سردار ابراہیم صاحب کشمیر کے عبوری وزیر اعظم مقرر ہوئے۔چونکہ ابھی ان میں سے بعض احباب نے سری نگر جا کر کشمیری عوام کا متحدہ محاذ قائم کرنے کی کوشش کرنی تھی ، اس لئے اس حکومت کا اعلان کرتے ہوئے اصلی ناموں کی بجائے کوڈ نام استعمال کئے گئے۔گل کار صاحب کا کوڈ نام انور رکھا گیا۔۴/اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اس حکومت کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔اور اس کے پہلے پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا کہ چونکہ ہندوستان میں سلطنت برطانیہ کا خاتمہ ہو چکا ہے، اس لئے مہاراجہ گلاب سنگھ اور انگریزوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اس لئے اس اعلان کے بعد کشمیر کے عوام نے حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے اور مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا جاتا ہے۔اب سے جو شخص مہاراجہ ہری سنگھ یا اُس کے کسی رشتہ دار کے احکامات کی تعمیل کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔اس حکومت کا صدر مقام مظفر آباد ہو گا ( ۸ تا ۱۰)۔مسٹر انور کو اس حکومت کا صدرمقرر کیا گیا ہے۔۴ اور ۵ اکتوبر کو اس حکومت کے قیام کا اعلان بار بار ریڈیو پر کیا گیا۔اس وقت کشمیر کے المناک حالات کی وجہ سے مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا جاتا تھا۔اس اعلان سے ان میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا۔افق پر امید کی ایک نئی کرن نظر آئی۔اس کا اندازہ اُس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اردو اخبار احسان کے صفحہ اول کی سب سے بڑی سرخی سے لگایا جا سکتا ہے۔