سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 324 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 324

324 ریاستوں کا الحاق اور کشمیر کا المیہ ہندوستان میں ۵۶۲ ریاستیں موجود تھیں۔ہندوستان کی ایک چوتھائی آبادی ان ریاستوں میں رہتی تھی اور ملک کا ایک تہائی رقبہ ان کے زیر نگیں تھا۔اکثر ریاستوں کا رقبہ ہمیں مربع میل سے بھی کم تھا۔مگر حیدر آباد، کشمیر اور میسور جیسی ریاستیں بھی موجود تھیں جو بہت سے آزاد ملکوں سے بڑی تھیں۔گو یہ ریاستیں برطانوی سلطنت کے ماتحت تھیں لیکن اندرونی طور پر ان پر نوابوں اور راجوں کی حکومت تھی۔ان کے محلات ، ان کی شان و شوکت، ان کا رعب و دبدبہ، ان کے دربار ، بیتے زمانوں کی یاد دلاتے تھے۔مگر وقت کے تقاضے تیزی سے بدل رہے تھے۔ان میں سے زیادہ تر ریاستیں برطانوی ہندوستان کی نسبت بہت زیادہ پسماندہ تھیں۔اور اکثر والیان ریاست کو اپنی رعایا کا اعتماد حاصل نہیں تھا۔ان ریاستوں کے برطانوی سلطنت کے ساتھ مختلف قسم کے معاہدے تھے، جن کے مطابق ان کا نظم ونسق چلایا جاتا تھا۔اب ہندوستان آزاد ہو رہا تھا اور برطانوی حکومت یہاں سے رخصت ہو رہی تھی۔اس کے ساتھ یہ معاہدے بھی ختم ہو رہے تھے۔قانونی طور پر تو یہ ریاستیں آزاد تھیں۔لیکن ان کی جغرافیائی پوزیشن ، اقتصادی حالات یا انتظامی اور سیاسی صورت حال ایسی تھی کہ عملاً یہ ریاستیں اس قابل نظر نہیں آرہی تھیں کہ علیحدہ اور آزاد ممالک کی حیثیت برقرار رکھ سکیں۔اس صورتِ حال میں برطانوی حکوت نے اعلان کیا کہ ان ریاستوں کو اختیار ہے کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کسی ملک سے الحاق کر لیں یا ان میں سے کسی ملک کے ساتھ باہمی رضامندی سے کوئی معاہدہ کر لیں۔ریاستوں کا مسئلہ زیادہ تر ہندوستان سے تعلق رکھتا تھا۔کیونکہ ۵۶۲ میں سے صرف ۱۴ ریاستیں پاکستان کے علاقے میں آ رہی تھیں اور باقی ہندوستان کی سرحدوں کے اندر واقع تھیں۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس معاملے میں ہندوستان کی کافی مدد کی اور آزادی کا سورج طلوع ہونے سے قبل جو ریاستیں ہندوستان میں آ رہی تھیں ان میں حیدر آباد اور جونا گڑھ کے سوا ہندو اکثریت والی تمام ریاستیں ہندوستان سے الحاق کا اعلان کر چکی تھیں۔حیدر آباد اور جونا گڑھ کے حکمران مسلمان تھے اور ان کے باشندوں کی اکثریت ہندو تھی۔اپنی وسعت کی وجہ سے حیدر آباد کا